حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 154
تَشْکُرُوْنَ: تا تم قدر کرو۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۸؍فروری ۱۹۰۹ء) عَفَوْنَا: اِس لئے کہ اس شرک سے توبہ کر لی۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر ۹ صفحہ ۴۳۷) اَلْفُرْقَانَ: وہ مدد جس سے د؟شمن اور موسٰیؑ کے درمیان فیصلہ ہؤا وہ یہی کہ فرعون غرق ہو گیا اور بنی اسرائیل نجات پا گئے اور عمدہ ملکوں کے وارث ہوئے۔حضرت موسٰی علیہ السّلام ایک زمانہ میں طُور پر تشریف لے گئے۔ایک شریر آدمی نے بچھڑا بنایا اور ان لوگوں سے کہا کہ یہی موسٰیؑ کا معبود تھا وہ بھُول کر پہاڑ پر چلا گیا۔تم لوگ غالباً تعجّب کرو کہ ایک قوم بچھڑے کو کیونکر خدا ٹھہرا سکتی ہے سو مَیں تمہیں سُناتا ہوں کہ دیکھو آجکل ہندو کیسے ذہین اور چالاک ہیں پھر بھی پتّھروں کو معبود سمجھتے ہیں۔بچھڑے میں تو پھر ایک آواز تھی پتّھر میں یہ بات بھی نہیں۔پھر پتّھروں پر ہی اِکتفا نہیں بلکہ جمنا جی، گنگاجی اور اِس قِسم کی کئی ندیوں کی پرستش کرتے ہیں۔خیر یہ تو ہندو ہیں مسلمانوں کا حال بھی اچھا نہیں لاہور دارالسلطنت ہے اس کی نسبت داراشکوہ لکھتے ہیں کہ یہاں تیس ہزار حفّاظ قرآن شریف موجود ہیں باوجود اِس کے پھر علمِ قُرآن ایسا مفقود ہے کہ وہاں بھی گھوڑے شاہ کی خانقاہ ہے پھر اِس قِسم کی ہزاروں قبریں ہیں جن پر ٹلیاں یا رسّے چڑھتے ہیں۔اِس کی وجہ کیا ہے ؟صرف یہی کہ کوئی قوم خواہ کِس قدر اچھی ہو جب بُروں سے اس کا تعلق ہو تو ان کی رسم و عادات نیکوں میں بھی رواج پذیر ہو جاتی ہیں۔دیکھو مسلمان جانتے ہیں کہ صبر بھی اچھی چیز ہے اور یہ بھی جانتے ہیں کہ بے صبری کا نتیجہ کچھ بھی نہیں اور پھر یہ بھی جانتے ہیں کہ چیخ کر رونا جائز نہیں