حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 147 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 147

ڈانٹا ہے کہ تم دوسروں کونیکی کی نسبت کہتے ہو اور اپنے تئیں بھُلاتے ہو۔پس تم دونوں سُنانے والے اور سُننے والے ثابت قدمی سے کام لو اور دُعا کرو۔نماز پڑھو کہ یہ دونوں کام خاشعین پر گراں نہیں۔جن کو اﷲ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے کا یقین ہو وہی حقیقی خشوع کر سکتے ہیں۔(بدر ۱۰؍دسمبر ۱۹۰۸ء صفحہ۲)اﷲ تعالیٰ اِن آیات میں اپنے احسانات یاد دلاتا ہے کیونکہ انسان کی فطرت ہے کہ اپنے احسان کرنے والے کا شُکر گذار ہوتا ہے اور اس کی فرمانبرداری کرتا ہے اور اس کو خوش رکھنا اپنا فرض جانتا ہے۔پس اﷲ تعالیٰ انسان کو کہتا ہے کہ تم خدا کے ناشکرے کِس طرح بنتے ہو۔اپنا حال تو دیکھو تم مُردہ تھے، بے جان ذرّات تھے، تمہارا نام و نشان نہ تھا خدا نے تمہیں زندہ ، جاندار بنایا پھر تم مَر جاؤ گے پھر زندہ کئے جاؤ گے اور خدا کی طرف پھیرے جاؤ گے۔۔پھر احسانِ الہٰی کو یاد کرو کہ اس نے زمین کی تمام اشیاء تمہارے فائدہ کے واسطے بنائیں۔پھر تم زمین سے لیکر آسمان تک بلکہ عرش تک نگاہ ڈالو ہر امر میں خدا تعالیٰ کے تمام کاموں کو حِکمت سے پُر پاؤ گے۔کوئی بات ایسی نہیں جس میں کوئی کمزوری یا خرابی نگاہ میں آ سکے اور خدا سب باتوں کا علیم ہے وہ تمہارے افعال کو دیکھ رہا ہے اور اُن سے باخبر ہے۔(بدرؔ۱۷؍ستمبر ۱۹۰۸ء صفحہ۲)    اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ: ایسے نہ بنو کہ لوگوں کو تو نیکی کا حکم کرو اور اپنے تئیں ترک کر دو۔تَنْسَوْنَکے معنے ترک کر دینے کے ہیں۔قرآن شریف میں ایک جگہ آیا ہے نَسُوا اﷲَ فَنَسِیَھُمْ (التوبۃ:۶۷) : تم کیوں نہیں رُکتے۔عقل ایک صفت ہے۔انسان اپنے تئیں بدیوں سے روک سکتا ہے۔یہ دو گروہ ہوئے ضعفاء اور علماء۔اب تیسرے گروہ کا ذکر آتا ہے یہ اُمراء کا گروہ ہے۔ہمارے ملک میں اِن لوگوں کے لئے تو گویا کوئی شریعت ہی نہیں اور نہ کوئی واعظ ہے۔ہر قِسم کی بدی ان کیلئے مباح ہے۔ان کی مجلسوں والے نرے خوشامدی ہیں۔ایک امیر نے بَینگن کی تعریف کی۔حاضرینِ مجلس نے