حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 146 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 146

بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلاً کی خلاف ورزی ہے۔  دُنیا میں ایک فرقہ ایسا بھی ہے کہ راستبازی ان کی فطرت میں داخل ہوتی ہے۔ایک فرقہ وہ ہے جو حق کو باطل کے ساتھ ملا دیتا ہے اور پھر اپنے تئیں سچّا ثابت کرنے کے لئے حق کو چھپا دیتا ہے۔بچّے کا حال بیج کی مانند ہے کہ تخم اچھا ہو پر زمین اچھی نہ ہو۔زمین اچھی ہو تو آب پاشی نہ ہو۔آب پاشی ہو تو حفاظت نہ ہو۔پس خوش قِسمت انسان کو نیک ماں باپ، نیک ہم نشین ، عمدہ تربیت و نگرانی حاصل ہوتی ہے۔(بدر ۱۰؍دسمبر ۱۹۰۸ء صفحہ۲) اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ: جب کہ تم پر حق واضح ہو چکا ہو۔یہ سب علماء سے خطاب ہے کیونکہ ایسے لوگ علماء میں بہت ہیں۔مثلاً ایک امیر شیعہ نے ایک عالم سے پُوچھا کہ کربلا جانا بہتر ہے یا مکّہ جانا۔اُس نے جواب دیا مکّہ کے واسطے تو زادِراہ اور امن کی شرط ہے اور کربلا کے واسطے یہ شرط نہیں۔اوہ کربلا کی اتنی عظمت؟ اور اس کی طرف جان جوکھوں میں ڈال کر جانا۔یہ سُنکر سُبحان اﷲ پڑھتا چلا گیا۔بعد میں کسی دوست نے پُوچھا کہ کیوں حضرت یہ کیا فرمایا۔کہنے لگے کہ اس نے دھوکہ کھایا۔میرا مطلب یہ تھا کہ کربلا جانا ثابت ہی نہیں۔دیکھو اگر اسے حق کہنا منظور ہوتا تو ایسے مشتبہ لفظ نہ بولتا۔پھر فرمایا کہ نمازیں سنوار سنوار کر پڑھو اور زکوٰۃ دیتے رہو۔مَیں نے بہت کم عالموں کو زکوٰۃ دیتے دیکھا ہے۔ان میں زکوٰۃ کا رواج کم ہے۔اِرْکَعُوْا: فرمانبرداروں کے ساتھ ہو جاؤ۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۸؍فروری ۱۹۰۹ء) اَقِیْمُوا الصَّلوٰۃَ: نماز کو قائم کرو۔بعض کام روزمرّہ کی عادت بن جاتے ہیں۔پھر ان کا لُطف نہیں رہتا۔دیکھا گیا ہے کہ زبان سے اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی ہو رہا ہے مگر قلب کی توجّہ کام کی طرف ہے۔پس نماز کو سنوار کر پڑھو اور جو معاہدہ نماز میں کرتے ہو عملی زندگی میں اس کا اثر دیکھو۔زبان سے کہتے ہو اِیَّاکَ نَعْبُدُ ہم تیرے فرمانبردار ہیں مگر کیا فرمانبرداری پر ثابت قدم ہو ؟ پھر واعظوں کو