حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 145 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 145

 مُصَدِّقًا لِّمَامَعَکُمْ۔مُصَدِّقًا بعض عیسائیوں نے اعتراض کیا ہے کہ پھر مسلمان کیوں انجیل پر عمل نہیں کرتے۔اس کا جواب یہ ہے کہ ہم مصدّق ہونے کو تیار ہیں بشرطیکہ انجیل وہ ہو جو عیسٰیؑ پر نازل ہوئی۔اگر وہ انجیل ہو تو ہم اس کے مصدّق ہیں۔پھر کوئی چیز مصدّق اُس چیز کے لئے ہو سکتی ہے جو تصدیق کی محتاج ہو۔مثلاً سبت مناؤیا یہ کرو تو یہ محتاجِ تصدیق نہیں۔تصدیق کی محتاج پیشگوئیاں ہوتی ہیں اِسلام کی وجہ سے جو تغیرّ ان کے بلاد اور مذہب میں ہؤا۔عیسائیوں سے ہمارا سوال ہے کہ آیا اس کے متعلق کوئی پیشگوئی تمہاری کتابوں میں ہے یا نہیں۔اگر ہے تو وہ پوری ہو چکی۔تصدیق کے دوسرے معنے سچ کو سچ کہنے والا۔جھُوٹ کو جھُوٹ کہنے والے کو مصدّق نہیں کہتے۔پس جو اِن کتابوں میں سچ ہے اس کو اپنی تعلیم میں لے کر سچّا ثابت کر دیا اور جو جھُوٹ ہے اسکی تکذیب کر دی۔مثلاً یہود کہتے ہیں کہ خدا ایک ہے اور مسیحی کہتے ہیں کہ خدا تین ہیں۔پس فرمایا:۔ (المائدہ: ۷۴) وَلَا تَکُوْنُوْآ اَوَّلَ کَافِرٍبِہٖ یعنی تم پڑھے ہوئے کافر بنو گے تو اوّل درجہ کے کافر کہلاؤگے۔گو مُشرک پہلے کافر ہوئے تھے مگر وہ جاہل تھے۔اِسی لئے پڑھے ہوؤں سے کہا کہ تم اوّل درجہ کے کافر بنو گے کیونکہ تم کو منہاجِ نبوّت کا علم ہے اور پھر کافر بنے۔ثَمَنًا قَلِیْلًا کے یہ معنی نہیں کہ قرآن کی قیمت تھوڑی نہیں لینی چاہیئے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جھُوٹے مسئلے بنا کے اپنی بڑائی یا دُنیا چاہنا بہت بُرا ہے۔قرآن مجید میں آیا ہے کہ (النّساء :۷۸) جس سیثَمَنًا قَلِیْلًا کے معنے کُھل سکتے ہیں۔فَاتَّقُوْنِ: میرا تقوٰی اختیار کرو۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۸؍ فروری ۱۹۰۹ء) اوّل نمبر کے کافر نہ بنو یا پہلا بُرا نمونہ تم نہ بنو کہ دوسرے اس سے متاثر ہوں گے اور سب کا گناہ تمہارے ذمّہ ہو گا۔کلامِ الہٰی کی بے اَدبی نہ کرو۔جس شخص نے ’’ بہار دانش‘‘ لکھی ہے اُس سے کسی نے پوچھا کہ کیا کر رہے ہو؟ جواب دیا اِنَّ کَیْدَکُنَّ عَظِیْمٌ کی تفسیر کر رہا ہوں۔راگ والی کتاب کسی نے بنائی اور اُوپر لکھ دیا (الذّمر:۱۹)۔یہ سب لَاتَشْتَرُوْ