حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 144
نہ سُنایا حالانکہ علم تھا، ذہین و ذکی تھے، نیک تھے، دُنیا سے شاید کچھ بھی تعلق نہ تھا۔پھر ان کی اولاد کو بھی مَیں نے دیکھا وہ بھی اسی خطبہ پر اِکتفا کرتی۔مَیں نے آنکھ سے روزانہ التزام درس کا کہیں نہیں دیکھا۔ان بعض مَلکوں میں یہ دیکھا ہے کہ کِسی فِقہ کی کتاب کی عبارت عشاء کے بعد سُنا دیتے ہیں۔پس مَیں تمہیں مخاطب کر کے سُناتا ہوں۔اﷲ فرماتا ہے ہمارے فضلوں کو یاد کرو اور میرے عہدوں کو پُورا کرو مَیں بھی اپنے عہد پُورے کروں گا۔کبھی ملونی کی بات نہ کیا کرو اور گول مول باتیں کرنا ٹھیک نہیں۔حق کو چھُپایا نہ کرو بحالیکہ تم جانتے ہو۔قرآن شریف میں دو ہی مضمون ہیں ایک تعظیم لِاَمر اﷲ۔لَآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ کے ساتھ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ اس کلمۂ توحید کی تکمیل کے لئے ہے۔دومؔشفقت علیٰ خلق اﷲ۔اِس مضمون کو کھول کر بیان فرماتا ہے کہ خدا کی تعظیم کے واسطے نمازوں کو مضبوط کرو اور باجماعت پڑھو۔آجکل تو یہ حال ہے کہ امراء مسجد میں آنا اپنی ہتک سمجھتے ہیں۔حِرفت پیشہ کو فرصت نہیں۔زمیندار صُبح سے پہلے اپنے گھروں سے نکلتے ہیں اور عشاء کے قریب واپس آتے ہیں۔ایک وقت کی روٹی باہر کھاتے ہیں۔پھر واعظوں اور قرآن سُنانے والوں کو فرماتا ہے کہ لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھُول جاتے ہو۔علماء ،فقراء ، گدّی نشین سب کو ارشاد فرماتا ہے کہ بہادروں کے بیٹے بنو، منافق نہ بنو،حق میں باطل نہ ملاؤ، وفادار بنو تاکہ بے خوف زندگی بسر کرو۔دوسروں کو سمجھانے سے پہلے خود نمونہ بنو۔اگر تبلیغ میں کوئی مشکل پیش آجائے تو استقلال سے کام لو،بدیوں سے بچو،نیکیوں پر جمے رہو، نمازیں پڑھ پڑھ کر،دعائیں مانگتے رہو اور یہ یقین رکھو کہ آخر اﷲ کے پاس جانا ہے۔زندگی کا کچھ بھروسہ نہیں۔مَیں نے ایک شخص کو دیکھا بادشاہ کے پاس قلم و کاغذ لے کر گیا اِدھر پیش کیا اُدھر جان نکل گئی۔ایک اَور شخص تھا بڑے شوخ گھوڑے پر سوار میری طرف مصافحہ کیلئے ہاتھ بڑھایا۔مَیں نے کہا آپ کا گھوڑا شوخ ہے۔کہنے لگا ہاں ایسا ہی ہے۔مَیں ادھر گھر پہنچا کہ مجھے اطلاع ملی کہ وہ مَر گیا۔غرض یہ دوست ، یہ احباب، یہ آشنا، یہ اقرباء، یہ مال یہ دولت، یہ اسباب یہ دکانیں، یہ سازو سامان یہیں رہ جائیں گے۔آخر کار باخداوند۔اﷲ تم پر رحم کرے۔(الفضل یکم اکتوبر ۱۹۱۳ء صفحہ۱۵)