حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 143 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 143

پس اے مسلمانو! تم اپنی حالت پر غور کرو کہ تم پر بھی یہ انعام ہو چکے ہیں۔اِس کتاب پر ایمان لاؤ کیونکہ اِس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ تمام نصائح کی جامع ہے۔اگر کسی اگلی کتاب میں تحریف ہو چکی ہے تو یہ اسے صاف کرتی ہے۔(بدر ۲۶؍نومبر ۱۹۰۸ء صفحہ ۳) اِس رکوع میں اﷲ تعالیٰ نے حضرت یعقوبؑ کی اولاد کو ، بنی نوع اسرائیل کو بہادر سپاہی کے بیٹوں سے خطاب کیا۔مسلمانوں کی عبرت چاہیئے کہ تم بھی کسی بہادر سپاہی کی قوم ہو۔محمد رسول اﷲصلّی اﷲ علیہ السلام تمہارا امام تھا۔صحابہ کرامؓ اور تابعین کی اولاد ہو۔تمہیں یاد ہے تم پر کیا کیا فضل ہوئے۔پہلا فضل تو یہی ہے کہ تم کچھ نہ تھے۔پیدا ہوئے پھر مسلمان ہوئے۔قرآن جیسی کتاب تمہیں دی گئی۔محمد رسول اﷲ جیسا خاتم النّبییّن رسول عطا فرمایا۔تمہیں سمجھانے کے لئے متنبّہ کرنے کے لئے دوسروں کے حالات سُناتا ہے کہ ایک قوم کو ہم نے بڑی نعمتیں دی۔ِ (النحل:۱۱۳) اس قوم نے اﷲ کی نعمتوں کی کچھ قدر نہ کی تو ہم نے ان کو بھُوک کی موت مارا۔بھُوک کی موت۔بہت ذِلّت کی موت۔بہت دُکھ کی موت ہوتی ہے۔مَیں نے ان اپنی آنکھوں سے بھُوک کی موت مرتے لوگ دیکھے ہیں۔دُودھ ان کے مُنہ میں ڈالیں تو وہ بھی حلق سے نیچے نہیں اُترتا۔کشمیر میں خطرناک قحط پڑا کافر تو سؤر بھی کھاتے ہیں ان کے باورچی خانہ کے اِرد گِرد لوگ جمع ہو جاتے کہ شاید کوئی چھچھڑا مِل جائے۔یہ حالت اضطراری تھی اِس لئے مسلمان معذور تھے۔پندرہ بڑے بڑے غرباء خانے تھے اور رئیس چار سیر گیہوں خرید کر سولہ سیر کے حساب سے دیتا مگر پھر بھی خدا ہی دے تو بندہ کھائے بندے کی کیا ہی طاقت ہے کہ اِتنی دُنیا کی رزق رسانی کر سکے۔غرض اﷲ تعالیٰ ایک قوم کو نعمتیں یاد دلاتا ہے اور ارشاد فرماتا ہےمجھ سے جو عہد کیا تھا وہ پُورا کرو تو مَیںوہ عہد پُورا کروں گا جو تم سے کیا تھا۔اِس کا ذکر پہلے آ چکا ہے چنانچہ فرمایا(البقرۃ:۳۹)یعنی تم میری ہدایت کے پَیرو بنو تو مَیں تمہیںلَازندگی دوں گا۔اس وقت کسی مصیبت کے دن ہیں۔سات کروڑ کے قریب مسلمان کہلاتے ہیں چھ کروڑ کے کان میں قرآن کبھی نہیں گیا ایک کروڑ ہو گا جو یہ سُنتا ہے کہ قرآن ہے مگر اسے سمجھنے کا موقع نہیں۔پھر چند ہزار ہیں جو قرآن مجید باترجمہ پڑھتے ہیں۔اب یہ دیکھو کہ عمل درآمد کے لئے کِس قدر تیار ہیں۔مَیں نے ایک بڑے عالم فاضل کو دیکھا جن کا مَیں بھی شاگرد تھا۔وہ ایک پُرانا عربی خطبہ پڑھ دیتے تھے۔ساری عمر اسی میں گذار دی اور قرآنِ مجید