حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 136
سجدہ کا لفظ عرب کی لُغت میں انقیاد اور فرمانبرداری کے معنے دیتا ہے۔زیدالخیل عرب کا ایک مشہور شاعر ایک قوم کی بہادری کا تذکرہ کرتا ہے اور کہتا ہے اس بہادر قوم کے سامنے ٹیلے اور پہاڑ سب سجدہ کرتے ہیں یعنی فرمانبردار ہیں ان میں سے کوئی چیز بھی اِس قوم کو روک نہیں سکتی۔بِجَمْعٍ تَضِلُّ الْیَلْقُ فِیْ حُجُرَاتِہٖ وَتَرَی الدُکْمَ فِیْھَا سُجَّدًا لِلْجَوَافِرِ وَالَسّجُوْدُ اَلتَّذَلُّلْ وَالْاِنْقِیَادُ بِالسَّعْیِ فِی تَحْصِیْلِ مَایَنُوْطُ بِہٖ مَعَاشَھُمْ۔فتح۔تفسیر مدارک ۱؎ میںہے وَاِذْقُلْنَا لِلْمَلَائِکَۃ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ اَیْ اَخْضَعُوْالَہ‘ وَاَقَرُّوْا بِالْفَصْلِ لَہ‘۔غرض آدم علیہ السّلام وہاں رہے اور ہر طرح اﷲ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں زندگی بسر کرتے رہے اﷲ تعالیٰ نے کہہ دیا تھا کہ انگور یا الشجراور انجیر کے پاس بھی نہ جانا۔َ سعید بن جبیر۔سدی۔شعبی۔جعدہ بن ہبیرہ۔محمد بن قیس۔عبداﷲ بن عبّاس۔مُرّہ ابن مسعود اور کئی صحابہ رضوان اﷲ علیہم اجمعین کا یہی قول ہے کہ وہ انگور کا درخت تھا۔مدارک میں لکھا ہے کہ یہی درخت تمام فتنوں کی جَڑ ہے اور منذربن سعید نے اپنی تفسیر میں ایسا ہی لکھا ہے جیسے امام ابنِ قیّم نے حادی الارواح میں بیان کیا اور وہ جنّت جس میں آدم علیہ السّلام رہے وہ زمین پر تھا غور کرو دلائلِ ذیل پر: وَالْقَوْلُ بِائَّھَا جَنَّۃٌ فِی الْاَرْضِ لَیْسَتْ بِجَنَّۃِ الْخُلْدِ قَوْلُ اَبِیْ حَنِیْفَۃَ وَ اَصْحَابِہٖ رَضِی اﷲُ عَنْہُ وَ ھٰذَا ابْنُ عْیَیْنَۃَ یَقُوْلُ فِیْ قَوْلِہٖ عَزَّ وَجَلَّ وَ اَنَّ لَکَ اَنْ ل َاتَجُوْعَ فِیْھَا وَ لَاتَعْرٰی قَالَ یَعْنِیْ فِی الْاَرْض وَ ابْنُ عُیَیْنَۃِ اِمَامٌ وَ ابْنُ نَافِعِ اِمَامٌ وَھُمْ ۱؎ تفسیر فتح البیان و مدارک التنزیل۔مرتّب ( اَیِ الْمُنْکِرُوْنَ) لَا یَاتُوْنَنَا بِمِثْلِھِمَا۔اور امام ابنِ قتیبہ نے اپنی کتاب معارف میں فرمایا ہے:۔(ترجمہ از مرتّب) اور یہ قول کہ : ’’ وہ جنّت زمین پر ہے، اِس سے مراد جنّت خُلد یعنی ہمیشہ رہنے والی جنّت نہیں ہے۔‘‘ یہ ابوحنیفہؒ اور آپ کے رفقاء کا قول ہے۔اور ابنِ عیینہ کے مطابق فرمانِ الہٰی: وَاَنَّ لَکَ اَنْ لَّا تَجُوْعَ فِیْھَا وَلَا تَعْرٰ ( کہ اس میں تُو بے خوراک و بے پوشاک نہ ہو گا) یعنی اس سر زمین میں۔اور یاد رہے کہ ابنِ عیینہ اور ابنِ نافع ایسے امام ہیں جن کی مثال منکرین کے پاس نہیں ہے۔