حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 135 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 135

ہے کہ ہر شخص کو کچھ حکم دیا جاتا ہے تو ساتھ ہی کچھ ممانعت بھی کی جاتی ہے کُلُوْا وَاشْرَبُوْا کے سات وَلَاتُسْرِفُوْا فرمایا ہے ایسا ہی آدم کو کسی بات سے جو اس کے لئے مُضِر تھی روکا۔فَتَکُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ ایسا کرو گے تو جان پر بوجھ ڈالو گے۔آدم خدا کا مصطفٰے اور مجتبیٰ تھا اور قرآنِ مجید میں آیا ہے ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْکِتٰبَ الَّذِی اصْطَفَیْنَاہُ ُمِنْ عِبَادِقَا فَمِنْھُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ جس سے معلوم ہؤا کہ برگزیدہ لوگ بھی ظالم ہیں مگر وہ ظالم نہیں جن کے ظلم کا نتیجہ بُرا ہے بلکہ وہ نفس پر رضائِ الہٰی کے لئے ظلم کرتے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدرؔقادیان ۱۸؍فروری ۱۹۰۹ء) چونکہ حضرت آدمؑ کی خلافت ان کی کمالِ عِلمی کے باعث ثابت ہو گئی اور علمی کمال بطریق اولیٰ تسبیح اور تحمید کا باعث ہوتا ہے جیسے قرآن کریم نے کہااِنَّمَایَخْشَی اﷲَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمَآئُ۔یَرْفَعُ اﷲُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُم وَالَّضْزِیْنَ اُوْتُوالْعِلْمَدَرَجَاتٍ تو حضرت آدمؑ ملائکہ سے بڑھ گئے اور ان پر فضیلت پا گئے۔جن باتوں پر خلافت کا مدار ہے اِس آیت میں بیان ہوئی ہے۔   (البقرۃ:۲۴۸) اسی بناپر اﷲ تعالیٰ نے ملائکہ کو حکم دیا کہ اس خلیفہ اور حاکم کی اطاعت کرو۔الہٰی خلفاء کی تابعداری اور فرمانبرداری انسانی ضرورت ،تمدّن اور سیاست کا لابدی مسئلہ ہے اِسی واسطے جامع العلوم کتاب قرآن کریم اِس بارے میں حکم دیتی ہے اَطِیْعُوا اﷲَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنکُمْ تمام مذاہب یہ امر مسلّم ہے کہ عبادت نام ہے اﷲ تعالیٰ کی آ گیا کے پالن کا۔یعنی اس کافر مانبردار ہونا۔جب باری تعالیٰ نے ملائکہ کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو آدم کو سجدہ کرنا اور اس کی آ گیا کا پالن کرنا درحقیقت باری تعالیٰ کی جناب کو سجدہ تھا نہ آدم کو۔سچ ہےاﷲ تعالیٰ کے حکم سے اس کے خلفاء کی فرمانبرداری بھی خود اﷲ تعالیٰ کی اطاعت ہوتی ہے اور حکامِ وقت کے بھلے حکموں اور اچھے ارشادوں کی اطاعت حضرت حق سُبحانہٗ وتعالیٰ کی ہی اطاعت ہؤا کرتی ہے۔سجدہ کا لفظ اِسلامی شرع میں ایک وسیع لفظ ہے اس کے معنے سمجھنے کے لئے اِن آیات و محاورات پر غور کرو (النحل:۵۰) (الرعد:۱۶)