حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 133
نے اسمائِ الہٰی مراد لئے۔فلاسفروں نے ہر چیز کا ربّ النّوع۔مَاکُنْتُمْ تَکْتُمُوْنَ۔اﷲ نے اپنی عظمت کا ذکر فرمایا کہ ہم سب کچھ جانتے ہیں یہ نہیں کہ فرشتے دل میں کوئی بُرا خیال رکھتے تھے۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۹ صفحہ ۴۳۶،۴۳۷) الاسماء: کچھ نام سکھا دیئے وہ نام کیا تھے اس پر لوگوں نے بحث کی ہے۔صوفی تو کہتے ہیں اﷲ نے اپنے نام سکھائے فلاسفر کہتے ہیں چیزوں کے نام اور خواص۔یہ سب باتیں قیاسی طور پر کہی جاتی ہیں۔کِسی وحی سے ثابت نہیں۔پس مَیں اِتنا کہوں گا کہ اﷲ نے کچھ باتیں سکھائیں ان کو اﷲ خوب جانتا ہے پھر فرشتوں سے کہا کہ کیا تم بتا سکتے ہو۔اس پر ایک عیسائی نے اعتراض کیا ہے کہ اﷲ نے ملائکہ سے ناانصافی کی کہ ان کو نہ بتایا اور آدم کو بتایا حالانکہ نادان نہیں جانتا کہ ثابت بھی یہی کرنا تھا کہ جسے مَیں علم دوں وہ عالم ہے اور جسے مَیں نہ دوں وہ جاہل ہے چنانچہ فرمایا ہے کُلُّکُمْ ضَالّ اِلَّامَنْ ھَدَیْتُہ‘ کُلُّکُمْ عَارٍ اِلَّا مَنْ کَسَیْتُہ‘ پہلے دونوں جاہل تھے اور دونوں تعلیم کے محتاج۔آدم کو پڑھا دیا اسے آ گیا ملائکہ کو نہ پڑھایا اسے نہ آیا چنانچہ فرشتوں نے خود اقرار کیا سُبْحٰنَکَ لَاعِلْمَلَنَآ اِلَّامَا عَلَّمْتَنَا پھر فرمایا اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ خدا تعالیٰ زمین و آسمان کی چھُپی ہوئی باتوں کو جانتا ہے وہ علیم و حکیم ہے۔ایک بچّہ درزی کو دیکھے کہ اس نے تمام تھان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے تو وہ گھبر ا اُٹھتا ہے کیونکہ نہیں جانتا کہ یہ ٹکڑے ایک اعلیٰ ملبوس بننے والے ہیں اسی طرح اﷲ کے مصالح اکثر نادانوں سے مخفی رہتے ہیں وہ ظاہری صورت دیکھ کر چلّا اُٹھتے ہیں۔گلستان میں ایک شخص کی حکایت ہے کہ وہ لنگڑا ہو گیا اور ایک دن بیگار میں لوگوں کو پکڑ رہے تھے اُسے چھوڑ گئے تو وہ خدا کا شُکر بجا لایا۔قرآن شریف میں موسٰی اور خضر کا قِصّہ ہے۔خضر نے ایک کشتی کو عیب ناک کر دیا اور بعد میں اس کی حکمت ظاہر ہوئی۔پس ہمیں چاہیئے کہ خدا کی حکمتوں پر ایمان لائیں اور اس کے حکم مانیں شیطان نے اپنی رائے کو ترجیح دی۔اس نے انکار کیا۔اکڑبازی کی۔کافر ہو گیا۔بہت سے لوگ خدا کا فضل لے کر غضب کما لیتے ہیں بعض غضب تو نہیں کماتے مگر بھُول جاتے ہیں۔خدا کے انکار اور شرک وغیرہ کی سزائیں بعد الموت ہیں مگر شوخی، بے حیائی، کسی کو دُکھ دینا، کِسی کی ہتک کرنا، اِن سب کے عذاب اِسی دُنیا میں بھی آتے ہیں۔جو محض خدا کے حقوق ہیں ان کے لئے فروگذاشت معاف کی جاتی ہے مگر حقوق العباد میں دسترس کرنے کی سزا بہت جلد مِلتی ہے۔