حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 132 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 132

   اﷲ تعالیٰ نے ملائکہ،دیوتا اور سرون کو آدم کے خلیفہ بنانے پر جب یہ فرمایا ُ  اِس دعوٰی کی نہایت لطیف دلیل بتائی۔دعوٰی تو یہ فرمایا کہ بے رَیب مَیں وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے اور اِس دعوٰی کا ثبوت یُوں دیا آدم کو چیزوں کے نام سکھائے اس تعلیم سے جو اﷲ تعالیٰ نے آدم کو دی۔اتنا تو ثابت ہؤا کہ جو چیز آپ کو سکھائی گئی وہ فرشتے نہیں جانتے تھے اگر وہ جانتے تو اس چیز کے بتانے سے عاجز آ کر یہ نہ کہتے: ۔تُو پاک ہے ہمیں کوئی عِلم نہیں مگر جتنا تُو نے ہمیں سکھایا۔آدم کو ایسی بات تعلیم کر دینی جس کا عِلم فرشتوں کو نہ ہو ضرور اِس امر کا مثبت ہے کہ اﷲتعالیٰ وہ کچھ جانتا ہے جسے فرشتے نہیں جانتے اگر فرشتے جانتے تھے تو اﷲتعالیٰ نے اگر آدم کو پڑھا دیا تھا گو ہم نے مانا کہ علیحدہ پڑھایا تھا تو واجب تھا کہ فرشتے بُدوں اس کے کہ خدا سے پڑھتے بتلا دیتے اور اگر نہ بتلا سکے تو معلوم ہؤا کہ اﷲ تعالیٰ کا فرمودہ وَ اَعْلَمُ مَالَا تَعْلَمُوْنَبالکل سچّ تھا کہ فرشتے اس کے علوم سے بے خبر ہیں تو اس کے کسی فعل پر کسی کو خواہ ملائکہ کیوں نہ ہوں اعتراض کا موقع نہیں۔ٔ (تصدیق براہینِ احمدیہ صفحہ ۱۲۷،۱۲۸) اَب ہرسہ گروہ (منعم علیہم،مغضوب علیہم اور ضالّین۔مرتّب) کا ذکر تمثیلی رنگ میں فرماتا ہے یعنی یہ ایک سوال ہے مگر ہم آپ کو کُلّی عیوب سے پاک جانتے ہیں۔اِنِّیْ اَعْلَمُ کا ثبوت عَلَّمَ اٰدَمَ سے دیایعنی اس کو سکھا دیا فرشتوں کو نہ پڑھایا اور بتایا۔دیکھو جسے ہم پڑھاتے ہیں وہی جانتا ہے دوسرا نہیں۔ان مسمّیات کو پیش کیا وہ نام کیا تھے اس کا تفحص بیہُودہ ہے۔صوفیوں