حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 131
ٰدَمَ۔شیخ صاحب کہتے ہیں مَیں عالَمِ کشف میں حضرت ادریس نبی علیہ الصّلوٰۃ والسّلام سے مِلا اور اس کشف کی صِحت پر سوال کیا۔’’ فَقَالَ اِدْرِیْسُ صَدَقَ الْخَبَرُ وَصَدَقَ شُھُوْکَ وَمُکَاشِفَتُکَ‘‘جب ملائکہ، دیوتا نے اپنے اس غلط قیاس کے باعث وہ عرض کی جس کا ذکر آیت میں گذرا تب باری تعالیٰ نے ملائکہ کو فرمایا مَیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔اﷲ تعالیٰ علیم و خبیر کی غیب دانی پر غور کرو۔کیسی غیب دانی ہے اور وہ پاک ذات اپنے علم کے ساتھ کیسا محیط الکُل ہے۔کسی تاریخ سے قرآن کی کسی آیت سے معلوم نہیں ہوتا کہ آدم علیہ الصّلوٰۃ والسّلام سے کسیقسم کا فساد فی الارض یاسفک دماء ہؤا ہو۔ملائکہ کا اعتراض حضرت آدمؑ پر تھا اور اعتراض بھی یہ کہ فساد فی الارض اور سفکِ دماء اس سے سرزد ہو گا مگر حضرت آدمؑ ان عیوب سے پاک اور بَری نکلے۔اگر حضرت آدمؑ کی اولاد میں سے کوئی شخص اُن کی طرز پر نہ چلا تو اُس کے جُرم سے حضرت قصور وار نہیں ہو سکتے۔اولاد کے گناہ سے باپ کو بدنام کرنا اور بیٹے کے قصور پر باپ کو ملامت کے قابل بنانا بے انصافی ہے۔باپ کی کرتوت سے بیٹا بدنام ہو تو ہو مگر بالعکس غلط ہے۔ہاں حضرت آدم،شیطان کی ناراستی اور قسم پر دھوکا کھا جائے تو ممکن تھا کیونکہ نیکوں کے نیک گمان ہوتے ہیں۔نیک آدمی فریبیوں کی باتوں پر اپنے نیک گمان کے سبب غلطی کھا سکتے ہیں۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ۱۱۹ تا ۱۲۶،۱۲۷)