حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 129 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 129

پہلے ہی سے فتنہ و فساد کی رویں اور شر کے طوفان تھوڑے چل رہے ہیں؟ یہ بھی تو کوئی ارپ قبیل ہی ہو گا۔تیرا جلال ظاہر کرنے کو ہم بھی آخر ہیں ہی۔بزرگوں، دیوتاؤں کاکام تویہی تسبیحات اور تحمیدِ الہٰی اور باری تعالیٰ کی عبادت ہوتی ہے۔وہ بیچارے اﷲ تعالیٰ کے علم و حِکمت اور اس کے کاموں کے اسرار سے کیا واقف کہ فقط لِسانی تحمید و تقدیس سے دنیوی انتظام اور دینی کام اِس دارِ ناپائیدار کے نہیں چلتے۔میرا یہ کہنا کہ آدم سے پہلے اَور قومیں دُنیا میں آباد تھیں اوّل تو قُرآن کریم کی اِس آیت سے ظاہر ہے بلکہ مکذّب نے بھی اِس امر کو تکذیب میں تسلیم کیا ہے۔۔ان سب نے اطاعت کی مگر ابلیس نے اِبا کیا اور گردن کشی کی اور باغیوں میں سے ایک وہ بھی ہو گیا۔اور لفظ مِنْ کے معنے بعض کے ہوتے ہیں کَانَ ماضی کا صیغہ ہے اور اخبار الاوّل اور آثار الاوّل کی چوتھی فصل میں لکھا ہے: رَوَی مُجَاھِدٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اﷲُ عَنْہُ قَالَ کَانَ فِی الْاَرْضِ قَبْلَ الْجِنِّ خَلْقٌ یُقَالُ لَھُمُ الْجِنَّ وَالْبُنَّ وَ الطمَّ وَ الرمَّ وَانْقَرَضُوْا وَ ذَکَرَ غَیْرُہٌ اَنَّ اَوّلَ مَنْ سَکَنَ الْاَرْضَ اُمَّۃٌ یُقَالُ لَھُمُ الْجِنُّ وَالْبُنُّ ثُمَّ سَکَنَھَا الْجِنُّ قَامُوْا یَعْبُدُوْنَ اﷲَ زَمَانًا فَطَالَ عَلَیْھِمُ الْاَمْرُ فَفَسَدُوْا فَاَرْسَلَ اﷲُ اِلَیْھِمْ نَبِیًّا مِنْھُمْ بِقَوْلِہٖ تَعَالٰی یَا مَعْشَرَالْجِنِّ وَالْاِنْسِ اَلَمْ یَاْ تِکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ وَقِیْلَ مَلِکًا مُنْذِرًایُقَالُ لَہ‘ یُوْسُفُ فَلَمْ یُطِیْعُوْہُ وَ قَاتَلُوْا فَاَرْسَلَ اﷲُ عَلَیْھِمُ الْمَلَائِکَۃَ فَاَجَلَّتْھُمْ اِلَی الْبِحَارِ۔مجاہد ابنِ عبّاسؓ سے روایت کرتے ہیں کہ جن سے پہلے یہاں زمین پر ایک لوگ رہتے تھے جنہیں جنّ،بنّ،طمّ،رمّ کہتے تھے اور وہ سب ناپید ہو گئے اور ایک شخص کا قول ہے کہ زمین کے پہلے باشندے ایک قوم تھی جنہیں جنّ اور بنّ کہتے تھے۔پھر اُس پر جنّ آباد ہوئے۔کچھ دنوں تو اﷲ تعالیٰ کے فرمانبردار بندے بنے رہے پھر لگے شرارتیں کرنے تو اﷲ تعالیٰ نے انہی میں سے ان کی طرف ایک بنی بھیجا چنانچہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔اے گروہ ِ جنّ و اِنس کیا تم میں سے تمہاری طرف رسول نہیں آئے۔کہتے ہیں ڈرانے والا بادشاہ۔اس کا نام تھا یوسف۔انہوں نے اُس کا کہا نہ مانا اور اس سے لڑنے کو کھڑے ہوئے۔تب اﷲ تعالیٰ نے ان پر فرشتوں کو بھیجا انہوں نے ان باغیوں کو سمندر کی طرف