حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 128 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 128

کے معنے دیتا ہے اور آگے چل کر لفظ جنّت کی تحقیق میں ہم اور زیادہ تفصیل کریں گے۔تفاسیر میں لکھا ہے:۔فَھِمُوْا مِنَ الْخَلِیْفَۃِ اَنَّہُ الَّذِیْ یَفْصِلُ بَیْنَ النَّاسِ۔مَا یَقَعُ بَیْنَھُمْ مِنَ الْمَظَالِمِ وَیَرُدُّھُمْ مِنَ الْمَقَارِمِ وَ الْمَآثَمِ۔(قرطبی۔ابنِ کثیر) لفظ خلیفہ سے یہ سمجھا ہے کہ اس کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کے تنازعاتِ باہمی کو فیصل کرے اور ناکردنی امور سے انہیں باز رکھے۔وَ الصَّحِیْحُ اِنَّہ‘ اِنَّمَا سُمِّیَ خَلِیْفَۃً لِاَنَّہ‘ خَلِیْفَۃُ اﷲِ فِی اَرْضِہٖ لِاِقَامَتِہٖ حُدُوْدَہ‘ وَ تَنْفِیْذِ قَضَایَاہُ۔(فتح البیان) اور دراصل یہ ہے کہ اُسے خلیفہ اِسی لئے کہا گیا ہے کہ وہ اﷲ کا خلیفہ بن کر اُس کی زمین میں حدود قائم کرتا ہے اور اَور احکامات کو جاری کرتا ہے۔اَلْخَلِیْفَۃُ ھُوَ مَنْ یّخْلُفُ غَیْرَہ‘ وَالْمَعْنٰی خَلِیْفَۃٌ مِنْکُمْ لِاَنَّھُمْ کَانُوْا سُکَّانُ الْاَرْضِ اَوْخَلِیْفَۃُ اﷲِ فِیْ اَرْضِہٖ وَکَذٰلِکَ کُلُّ نَبِیٍّ نَحْوَیٰدَاوٗ دُاِنَّا جَعَلْنٰکَ خَلِیْفَۃً فِی الْاَرْضِ۔(تفسیر مدارک) خلیفہ اسے کہتے ہیں جو کسی کا قائم مقام ہو۔آیت کے معنی یہ ہیں کہ وہ تم میں کا خلیفہ ہے۔کیونکہ وہ لوگ اس زمین کے باشندے تھے اور یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ وہ اﷲ کا خلیفہ ہے اس کی زمین میں اور اِسی طرح ہر نبی اس کا خلیفہ ہے۔مثلاً اے داؤد! ہم نے تجھے اسی زمین میں خلیفہ بنایا۔غرض اِس زمین کے تمام مقدّس فرشتوں کے مقدّس گروہ نے آدم علیہ السّلام سے پہلی قوموں کی بَد اطواری اور کافروں،ڈشٹوں، ویسیوں، شیطانوں اور آمروں کے بُرے کام اور بَد چلنی دیکھی ہوئی تھی۔عالم الغیب تو بجز ذاتِ پاک باری تعالیٰ کے کوئی بھی نہیں۔اِلّاماشاء اﷲ۔نہ انبیاء نہ اَولیاء۔وہ ملائکہ بھی ایسے ہی محدود العِلم، محدود التجربہ مخلوق تھے۔اپنی کم عِلمی اور غیب نہ جاننے کے باعث اور کچھ خلیفہ کے لفظ سے جس کے معنے نائب اور قائم مقام کے ہیں۔غلطی سے سمجھ بیٹھے کہ یہ آدم بھی آدم ہے پہلی قوموں کی طرح فساد، تقل اور سفکِ دِماء نہ کرے۔اس آدم کی واقعی نیکی اور نیک چلنی کا ان کو علم نہ تھا اِس لئے باری تعالیٰ کی معلّٰی بارگاہ میں عرض کیا:  َ۔