حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 11
ُ۔وہ ہے جو نیک اعتقاد اور نیک اعمال اور نیک اَخلاق پر اور مانگنے سے رحمت کرنے والا ہو۔اس پر قرآن مجید کا استعمال شاہد ہے۔مثلاً فرمایا۔وَکَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا۔(رسالہ تعلیم الاسلام جلد اوّل نمبر۱) بِسْمِ اﷲِ جَہْراً(نماز میں۔مرتّب) اور آہستہ پڑھنا ہر دو طرح جائز ہے۔ہمارے حضرت مولوی عبدالکریم صاحب (اَللّٰھُمَّاغْفِرْہُ وَارْحَمْہُ)جو شیلی طبیعت رکھتے تھے۔بسم اﷲ جَہراً پڑھا کرتے تھے۔حضرت مرزا صاحب جہراً نہ پڑھتے تھے۔ایسا ہی مَیں بھی آہستہ پڑھتا ہوں۔صحابہؓ میں ہر دو قِسم کے گروہ ہیں۔مَیں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ کِسی طرح کوئی پڑھے اس پر جھگڑا نہ کرو۔ایسا ہی آمین کا معاملہ ہے ہر دو طرح جائز ہے، بعض جگہ یہود اور عیسائیوں کو مسلمانوں کا آمین پڑھنا بُرا لگتا تھا تو صحابہؓ خوب اُونچی پڑھتے تھے۔مجھے ہر دو طرح مزہ آتا ہے کوئی اُونچا پڑھے یا آہستہ پڑھے۔(بدر ۲۳؍مئی ۱۹۱۲ء صفحہ۳) ۔ال بمعنے سب۔وہ خاص۔اور حمد کسی کی اچھے اختیاری کام پر اس کی تعریف کرنا۔ کے معنے وہ خاص تعریفیں جو کہ کسی کے اختیاری کام پر سرزد ہوں۔(البدر ۹جنوری ۱۹۰۳ء نیز ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۴فروری ۱۹۰۹ء) ِِ۔ایسا پاک کلمہ ہے اور اس میں ایسے سمندر حکمتِ الٰہی کے بھرے ہوئے ہیں کہ جن کا خاتمہ ہی نہیں۔مَیں بعض اَوقات نماز میں پڑھنے کے بعد ٹھہر جاتا ہوں۔اِس کی وجہ یہی ہے کہ مَیں ان کے معانی میں غوروخوض کرتا ہؤا غرق ہو جاتا ہوں۔دیکھو بعض وقت مجھے بھی سخت سے سخت مشکلات اور تکالیف پہنچتی ہیں کہ ان سے جان جانے کا بھی اندیشہ ہؤا ہے مگر مَیں نے جب قرآن شریف کو شروع کیا ہے اور اس میں اوّل ہی اوّل سے شروع ہؤا ہے اور مَیں نے اِس آیت پر غور کیا ہے تب دل میں بسا اَوقات جوش آیا ہے کہ بتاؤ تو سہیاب اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کاکیا مقام ہے۔ان مصائب اور دُکھوں کے سمندر میں کِس طرح سے کہوگے اور ممکن ہے کہ کسی دوسرے مومن کے دِل میں بھی آیا ہو کیونکہ میرے دل میں ایسا بارہا آیا ہے تو اس کے واسطے مَیں نے غور سے دیکھا ہے کہ مصائب اور مشکلات میں واقعی اﷲ تعالیٰ کی ذات سات طرح سے کہے جانے کے لائق ذات ہے ؎