حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 118 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 118

ایک تارکِ اسلام کے اِس اعتراض کے جواب میں کہ ’’ بہشت میں نہریں ہوں گی۔بعض کہتے ہیں کہ دُودھ اور شہد کی نہریں۔‘‘ تحریر فرمایا:۔’’او بد بخت! اسلامی نہروں سے محروم۔دیکھ تیرے سام وید نے تجھے اب وید سے بھی متنفّر کرانے کی تجویز کی ہے۔جو کوئی کہ اُس خلاصی یعنی پومن (سوم) بھجن کو جسے خدا رسیدہ لوگوں نے جمع کیا پڑھتا ہے اس کے لئے سرسوتی،پانی،مکّھن،دودھ اور مدھ برساتا ہے۔دیکھو سام وید پر پاٹھک۸ سوم پومن صفحہ۱۲۹ دیرپاٹھک ۹، سرسوتی) ہاں اُس سات بہنوں والی پیاری نہروں میں نہایت پیاری سرسوتی نے ہماری تعریف حاصل کی ہے۔وہ رس کی نہر کے ساتھ اپنے تئیں صاف کر کے زردو سُرخ رنگ ہو کر چمکتا ہے۔اس وقت جب کہ وہ مدح گویوں کے ساتھ سات مُونہہ رکھنے والا تعریف کرنے والوں کے ساتھ کل شکلوں کا احاطہ کرتا ہے۔صفحہ ۵۱۔وہ مضبوط پہاڑی ڈنٹھل مستانہ خوشی کے لئے نہروں میں نچوڑا گیا ہے باز کی طرح وہ اپنی جگہ قرار پذیر ہوتا ہے۔صفحہ ۵۳۔اے اندر تیری نہر قوّت کے ساتھ دیوتاؤں کی ضیافت کے لئے بہتی ہے۔اے سوم مدھ سے مالا مال ہمارے برتن میں نشست گاہ اختیار کر۔صفحہ ۶۴۔دُودھ ان کی طرف اِس طرح دوڑا ہے جس طرح طُغیانیاں کسی چٹان پر دھکیلتی آتی ہیں۔وہ اِندر کے پاس صاف ہو کر آتے ہیں۔صفحہ۹۷ نیز اگر نہروں والے بہشت ناپسند تھے تو تمہارے آریہ کو جو تبت میں آباد تھے جب اپنے ملکوں سے اپنے کرموں انسار سے (نتائج اعمال ) جلاوطنی کا انعام ملا تھا تو چاہیئے تھا کہ افریقہ کے ریگستان میں جاتے۔انہوں نے انڈیا کو کیوں پسند کیا جس میں دُودھ اور شہد ہر قِسم تعیّش اور تنعّم کی نہریں بہتی ہیں۔تم کیسے شریرالنفس ہو مکّہ معظمہ کا تذکرہ ہو تو اُسے ریگستان سمجھتے ہو اور اگر نہروں کا تذکرہ ہو تو اس پر ہنسی ٹھٹھا کرتے ہو۔تم اس پر راضی ہو کہ تمہیں نرگ میں بھیج دیا جاوے۔حقیقی جواب نَھَر کے معنے کثرت کے ہیں اور نَھر کے معنے ندی کے ہیں۔اور وہ آیات جن میں نہروں کے عطیہ کا تذکرہ ہے۔وہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے اصحابِ کرامؓ کے حق میں ان کی محنتوں، مشقّتوں