حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 10 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 10

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ترجمہ:۔اﷲ کی عظمت اور بڑائی سے شروع کرتا ہوں جو بِن مانگے دینے والا اور سچی محنتوں پر عمدہ نتائج مرتب کرنے والا ہے (البدر ۹ جنوری ۱۹۰۳ صفحہ ۸۷) باؔ بہت سے معانی کے لئے آتی ہے اور یہاں پر استعانت کے لئے ہے۔وَ اللّٰہُ الْمُسْتَعَانُ اور خصوصًا اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ اس کے مؤیّد ہے استعانت کسی فعل میں ہوتی ہے۔اس فعل میں بہت کچھ بحث کی گئی ہے لیکن چونکہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو شروع میں اِقْرَأْبِاِسْمِ رَبِّکَ ارشاد ہؤا تھا۔لہٰذا کتاب اﷲ کے افتتاح کے وقت فعل قِرَائَ ت میںاَقْرَأُ) استعانت بہت موزوں ہے۔(رسالہ تعلیم الاسلام قادیان جلد نمبر۱ و نمبر۱) ہر ایک سچی اور آسمانی کتاب اگر اپنی اصلی زبان میں ہو تو اس کے ابتدا میں حرف ب ہی ہو گاب۔کے تین معنے یہاں ہو سکتے ہیں اوّل بسیب۔دوم۔ساتھ۔سوم۔قسم۔اسم کا لفظ سمو سے نکلا ہے اور اس کے معنے بڑائی کے ہیں تو اب بسم کے معنے ہوئے۔بسیب عظمت الٰہی۔یا ساتھ عظمت الٰہی کے۔یا قسم ہے عظمت الٰہی کی۔(البدر ۹جنوری ۱۹۰۳ صفحہ ۸۷) اِسمؔ نام کو کہتے ہیں۔اس میںزمانہ دراز سے بحث چلی آئی ہے کہ اس کا ماخذ اور اصل سمو ؔہے جو بمعنی علوّ ہے یا وسم ؔہے جو بمعنی علامت ہے لیکن اب حضرت امام ہمام واجب الاتباع اور مطاع نے (جس کی نسبت مخبرِ صادق صلی اﷲ علٖیہ وسلّم نے خبر دی تھی کہ وہ اَحکم الحاکمین کی طرف سے حَکم عَدل ہو کر آئے گا) یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ اِسمؔ وسمؔ سے بنایا ہوا ہے اوروہ اپنے مسمّٰی پر دالّ اور علامت ہوتا ہے۔اَللّٰہ ؔ نام ہے اُس ذات کا جو کہ سب نقصوں سے پاک اور سب کمالات کی جامع ہے اور یہی اس کے معنے ہیں۔(رسالہ تعلیم الاسلام جلد اوّل نمبر۱ نیز البدر ۹؍جنوری ۱۹۰۳ء) اﷲ جامع جمیع صفات کاملہ اور ہر ایک بدی سے منزّہ۔ایسی ذات جس کی عبادت میں کوئی شامل نہ کیا جاوے۔(البدر ۹ جنوری ۱۹۰۳ صفحہ ۸۷) اﷲ سب خوبیوں کا جامع۔سب بدیوں سے منزّہ۔معبودِحقیقی۔عربی کے سوائے کسی دوسری زبان میں خدا تعالیٰ کے نام کے واسطے کوئی بھی ایسا مفرد لفظ نہیں ہے جو خاص اسی کے واسطے ہو اور کسی دوسرے پر اس کا اطلاق نہ پا سکے۔انگریزی کا لفظ گاڈ (God)دیوی دیوتا۔سب پر بولا جاتا ہے اور لفظ لارڈ (Lord)تو بہت ہی عام ہے۔سنسکرت کا لفظ اومؔ بھی مرکّب ہے غالبا اَمّ سے نکلا ہے کیونکہ یہ عبادت میں اومؔ سے دعائیں مانگتے ہیں۔عبرانی کا ایلؔ اِلَا سے نکلا ہے اور یہوواہؔ یَاھُوَ سے نکلا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر ۴؍فروری۱۹۰۹ء) ۔اِس کے معنے ہیں بِن مانگے اور بے عوض رحمت کرنے والا جیسا کہ قرآنِ مجید کے استعمال سے ثابت ہے۔مثلاً فرماتا ہے  (رسالہ تعلیم الاسلام جلد اوّل نمبر۱ نیز البدر ۹؍جنوری ۱۹۰۳ء و ضمیمہ بدر ۴؍فروری ۱۹۰۹ء)