حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 115 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 115

اس مالک نے نہ جان دی ہے نہ وہ کھانے پینے کی چیزیںپَیدا کی ہیں۔جب ایک معمولی (احسان) سے اس کی اس قدر اطاعت کی جاتی ہے تو کیا وجہ ہے کہ انسان اپنے مولیٰ کریم پر فدانہ ہو جس نے اسے حیات بخشی ،رزق دیا، پھر قیام کا بندوبست کیا۔اِس لئے فرمایا کہ منافقو! تم معمولی فائدہ کے اُٹھانے کے لئے جہان کا لحاظ کرتے ہو مگر کیوں نہیں اُس سچّے مربیّ کے فرمانبردار ہوتے جو تمام انعاموں کا سرچشمہ ہے۔کم عقلو! اُس نے تمہیں پَیدا کیا۔پھر تمہارے باپ دادا کو بھی پَیدا کیا۔پھر فرمانبرداری کرنے میں اﷲکا کچھ فائدہ نہیں بلکہ تم ہی دُکھوں سے بچو گے اور سُکھ پاؤ گے۔دیکھو! اس نے تم پر کیسے کیسے اِحسان کئے ہیں۔تمہارے لئے زمین بنائی جو کیسی اچھی آرامگاہ ہے پھَل پھُول اور طرح طرح کی نباتات پیدا کرتی ہے جسے تم کھاتے ہو۔پھر آسمان کو بنایا جیسے ایک خیمہ ہے۔وہ زمین کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔پھر بادلوں سے پانی اُتارا اِس سے رنگارنگ کے پھَل اُگائے۔یہ فضل ہوں اور پھر تم اس کا ندّ بناؤ۔بڑے افسوس کی بات ہے۔ندّ بنانا کیا ہے۔سُنو۔یہ کہنا کہ دوست آ گیا اس کی خاطر تواضع میں نماز رہ گئی۔بچّوں کے کپڑوں اور بیوی کے زیوروں کی فِکر تھی نماز میں شامل نہ ہو سکا۔رات کو ایک دوست سے باتیں کرتے کرتے دیر ہو گئی اِس لئے صبح کی نماز کا وقت نیند میں گزر گیا۔غور کرو اس دوست یا اس شخص نے جس کے لئے تم نے خدا کے حکم کو ٹالا ویسے احسان تمہارے ساتھ کئے ہیں جیسے خدا تعالیٰ نے تم سے کئے؟ اِسی طرح آجکل مجھے خط آ رہے ہیں کہ بارش ہو گئی ہے تخمریزی کا وقت ہے اگر آپ اجازت دیں تو روزے پھر سرما میں رکھ لیں گے۔یہ خدا تعالیٰ کے احکام کا استخفاف ہے توبہ کر لو۔یہ اپنے دُنیاوی کاموں کو خدا کا ندّ بنانا ہے جو کفرانِ نعمت ہے۔(الفضل ۲۰؍اگست ۱۹۱۳ء صفحہ۱۵)   اب جب فرمانبردار بننا ہے تو فرمان کی ضرورت ہے وہ فرمان قُرآن ہے جو ہم نے اپنے بندے پر نازل کیا۔اگر اس کے کلامِ الہٰی ہونے میں تمہیں کچھ شک ہے تو اس کی مثل لاؤ۔یہ آسان فیصلہ ہے کیونکہ جیسے دوسری مخلوقات میں خدا کی بنائی ہوئی چیزیں انسان کی بنائی ہوئی چیزوں سے الگ نظر آتی ہیں اسی طرح یہ کلام اﷲ کلامِ انسانی سے لگا نہیں کھاتا۔اگر تم نظیر نہ لائے اور لا بھی نہ سکو گے تو اس آگ سے بچاؤ کر لو جس کا ایندھن مُنکر لوگ اور پتّھرہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۱؍فروری ۱۹۰۹ء) اس کا سب سے بڑا انعام تم پر یہ ہے کہ قرآن ایسی کتاب دی۔اگر تم کو یہ شک ہے کہ قرآن خدا کی کتاب نہیں ہے اور یہ بناوٹی ہے اور انسانی کلام ہے توتم بھی کوئی ایسی کتاب لاؤ بلکہ اِس کتاب کے ایک ٹکڑے جیسا بنا کر دکھاؤ۔ہمیں بھی بعض لوگوں نے کہا کہ یہ قُرآن کو توڑ موڑ کر ترجمہ کر لیتا ہے مَیں کہتا ہوں جیسا تمہارے سُنانے والا ہے ایسا کوئی سُنانے والا لاؤ۔مَیں تمہیں کہتا ہوں جھُوٹ نہ بولو کیا تم کوئی ایسا مترجم لا سکتے ہو جو کہے کہ قرآن میں لکھا ہے کہ تم جُھوٹ بولا کرو۔مَیں کہتا ہوں کہ بَد معاملگی چھوڑ دو تو کیا کوئی ایسا مترجم آئے گا کہ جو کہے گا کہ بَد معاملگی کیا کرو۔مَیں کہتا ہوں کہ راست باز بنو،لڑائی چھوڑ دو،آپس کا فساد چھوڑ دو، تو کیا کوئی ایسا مترجم آئے گا جو کہے گا کہ لڑائی کیا کرو، فساد مچایا کرو۔غرض نہ تو قُرآن جیسی کتاب بنا کر لاتے ہو اور نہ اس سے بہتر بنا سکتے ہو تو پھر ڈرو اور بچاؤ اپنے آپ کو اس آگ سے جس کا ایندھن یہ شریر لوگ اور جس کے بھڑکنے کا موجب یہ معبود انِ باطل ہیں۔جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے اعمالِ صالحہ کئے وہ باغوں میں ہوں گے جن کے نیچے ندیاں بہتی ہیں۔ایمان توجنّات کے رنگ میں متمثّل ہو گا اور اعمالِ صالحہ اس کی نہریں ہیں جو پاک تعلیم کے نیچے آتا ہے وہ ترقّی کرتا ہے اور پاک آرام میں آتا ہے۔ہرآن میں اسے یقین آتا ہے کہ کیا عظیم الشّان اور کیا پاک اس کا کلام ہے جس نے فسانہ عجائب لکھی ہے۔(الفضل ۲۰؍اگست ۱۹۱۳ء)