حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 109 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 109

ضرور پہنچتے اور توحید کا وعظ فرماتے۔اِس کے لئے سب سے عمدہ و اعلیٰ موقع حج تھا جس میں آپ ایک ایک قبیلے کے جتّھے میں وعظ فرماتے۔بڑے بڑے واقعات آپ کو پیش آئے۔ایک شخص مشہور عاقبت اندیش تھا اس نے کہا اگر ایک آدمی میرے قابومیں آ جائے تو مَیں اس کے ذریعہ ساری دُنیا کو فتح کر سکتا ہوں۔وہ نبی کریم صلّی اﷲ علیہ وسلّم کے پاس آیا اور کہا کہ اگر میری ساری قوم تمہیں مان لے تو مجھے کیا دو گے؟ آپ نے فرمایا مَیں کسی کو کیا دے سکتا ہوں۔میرے بعد خدا جانے کیا ہو۔اِس پر وہ ناراض ہو کر چلا گیا۔اپنی قوم سے کہنے لگا۔ہے تو ایسا ہی مرد جیسا کہ مَیں نے کہا تھا مگر مَیں اس پر ایمان لانے کا تمہیں مشورہ نہیں دیتا۔آپ اِنہی حج کے ایّام میں منیٰ ایک مقام ہے وہاں وعظ فرما رہے تھے۔چھ آدمیوں نے جو مدینہ طیّبہ کے رہنے والے تھے اشارہ کیا کہ ہم آپ سے علیحدہ کچھ گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔چنانچہ آپ منیٰ کے پاس پہاڑیوں کا ایک سلسلہ ہے جو چکّر کھاتا ہؤا جاتا ہے اس کے اندر ایک ٹیلہ ہے وہاں چبوترہ پر جا بیٹھے اور ان کو دینِ اسلام کی تلقین کی۔اُنہوں نے بَیعت کی اور کہا کہ ابھی ہمارا نام نہ لیویں ہم جا کر مشورہ کریں گے اور آئندہ سال انشاء اﷲ تعالیٰ اپنے بہت سے دوستوں کو بھیجیں گے چنانچہ آئندہ سال بارہ آدمی بھیجے اور تیسرے سال ۷۲ آدمی حاضر ہوئے اور حضرت نبی کریم (صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم) سے عرض کیا کہ ان چھ آدمیوں کی کوشِش اور بارہ دوستوں کی کمربستگی سے مدینہ میں کوئی گھر نہیں رہا جس میں آپ کا تذکرہ نہ ہو ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمارے شہر میں چلیں۔حضرت عبّاسؓ رسول اﷲ صلی اﷲعلیہ وسلم کے ساتھ تھے گو وہ بظاہر مسلمان نہ تھے مگر حضرت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ہمدرد تھے آپ نے فرمایا کہ دیکھو ان کولے جانے میں تم کو بہت سخت مشکلات ہیں یہاں تمام منافی و ہاشمی آپ کے ساتھ ہیں مگر وہاں یہ بات نہیں۔اِس پر انہوں نے بڑا بھاری معاہدہ کیا اور اس معاہدہ میں رسول اﷲاﷲ صلّی اﷲ علیہ وسلّم نے اُن سے قسمیں لیں۔آپ نے فرمایا میرے مدینہ میں لے جانے کے یہ معنے ہیں کہ سارے جہان سے لڑائی کے لئے تم تیار رہو۔مکّہ میں قریش دشمن ہیں پھر نجدغطفان، مصر کو ساتھ ملائیں گے پھر عراق و شام کے راستے کی قومیں ان کے ساتھ ہیں۔اچھی طر ح سوچ سمجھ لو اگر یہ سب کچھ برداشت کر سکتے ہو تولے چلو۔انہوں نے عرض کیا کہ ہم حاضر ہیں۔عرب میں بہت سے آگیں جلاتے تھے۔ایک آگ نارالحَرب کہلاتی ہے چنانچہ قرآن شریف میں آیا ہے (المائدۃ: ۶۵)