انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 88 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 88

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۸۸ سورة سبأ إِلَّا كَافَةً لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَ نَذِيرًا تو یہ بشیر و نذیر مومن و کافر کے لئے ہیں۔اس کی وضاحت کے لئے ہی اللہ تعالیٰ نے سورۃ اعراف میں فرمایا انسان کو کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرُ و بَشِيرٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ (الاعراف: ۱۸۹) میں نذیر بھی ہوں اور بشیر بھی ہوں مومنوں کے لئے۔نذیر ہونا، ہوشیار کرنا، انتباہ کرنا مومن کو اور ہے کا فر کو اور۔یہ تو تسلیم لیکن یہ سمجھنا کہ آپ بشیر صرف مومن کے لئے ہیں اور نذیر صرف کافر کے لئے ہیں، یہ غلط ہے۔قرآن کریم کی آیات اس کی توثیق نہیں کرتیں۔کافروں کو یہ بشارت دی کہ اگر اس زندگی میں بھی تم خوشحالی اور امن اور سکون کی زندگی چاہتے ہو تو تمہیں قرآن کریم پر ایمان لانا پڑے گا اور ایمان لاؤ گے تو تمہیں سب کچھ مل جائے گا۔قرآن کریم نے ان کو یہ بشارت بھی دی کہ اس زندگی کے بعض معاملات ایسے ہیں جن کا تعلق روحانیت سے نہیں بلکہ محض ورلی زندگی کے ساتھ ہے اور ان معاملات میں اگر تم خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستے کو اختیار کرو گے جو قرآن کریم نے بتا یا تو تمہیں اس کا نتیجہ مل جائے گا۔صرف اس وجہ سے کہ تم قرآن کریم پر ایمان نہیں لاتے اپنے اس عمل کے نتیجہ سے تم محروم نہیں کئے جاسکتے مثلاً فرما یا لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى وَ أَنَّ سَعْيَة سَوْفَ يُرى (النجم :۴۰) اب جس میدان میں غیر مسلم نے یعنی علمی میدان میں اور زندگی کے ان شعبوں میں جن کا براہ راست (ویسے تو ہر چیز کا تعلق روحانی زندگی سے ہے لیکن براہ راست ) روحانی زندگی سے تعلق نہیں تھا جب کوشش کی تو انہیں نتیجہ مل گیا۔یہ سائنس کی ساری ترقیات خدا تعالیٰ کے ان فضلوں کے نتیجہ میں ملیں جو اللہ تعالیٰ نے دنیوی سعی کو مقبول کر کے اپنی رحمت ان پر نازل کی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ سائنس دان ایک ایسا وقت دیکھتے ہیں اپنی زندگی میں کہ جو کوشش کر رہے ہیں علمی میدان میں اندھیرا آ جاتا ہے سامنے اور ان کو کچھ پتا نہیں لگتا کہ ہم آگے کس طرح بڑھیں تو ان کی یہ تڑپ جو ہے کہ آگے بڑھیں کیونکہ سَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَوتِ وَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ (الجاثية : ۱۴ ) میں کمر سارے انسانوں کے لئے کہا گیا ہے۔تو اندھیرے میں وہ ہاتھ پاؤں مار رہے ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ اس تڑپ کو دعا قرار دے کے اور ان کی اس تڑپ کے نتیجہ میں اس مجوب کی جو دعا ہے کہ خدا تعالیٰ کو جانتا بھی نہیں لیکن دعا کی کیفیت اس کے اندر پیدا ہوتی ہے اسے قبول کرتا اور اس کے لئے روشنی پیدا کر دیتا ہے۔