انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 87
تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث ۸۷ سورة سبا وَ سَنَجْزِي الشَّرِينَ (آل عمران : ۱۴۶) اس طرح جو ہمارا شکر ادا کرنے والے ہوں گے۔ہم انہیں جزا دیں گے۔جو توفیق انہیں نیکیوں کی پہلے ملی ہے اس سے زیادہ تو فیق نیکیوں کی انہیں بعد میں دی جائے گی اس واسطے مومن کا ہر قدم پہلے قدم سے آگے پڑتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر قدم پر وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے والا ہوتا ہے۔قوتیں اور طاقتیں اور ستعداد میں پہلے دی گئی ہیں ان سے بڑھ کر قوتیں اور استعداد میں دی جائیں گی جو شدت احساس کی ہم خدا کے قرب کو حاصل کر کے اس کی محبت پا کر اس کی رضا کی جنت میں داخل ہوں احساس میں یہ شدت پہلے سے زیادہ تیز ہوگی۔پھر نتیجہ پہلے سے زیادہ نکلے گا پھر تمہارے دل میں شکر کے جذبات پہلے سے زیادہ پیدا ہوں گے۔( خطابات ناصر جلد اول صفحه ۳۶۰ تا ۳۶۳) آیت ۲۹ وَمَا اَرْسَلْنَكَ إِلَّا كَافَةً لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت كافة للناس ہے یعنی نوع انسانی کی طرف دنیا کے کسی خطے میں انسان بستا ہو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام اس کی طرف بھی ہے اس کی خوشحالی اور بہبود کے لئے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نوع انسانی کے ہر فرد کے لئے بشیر بھی ہیں اور نذیر بھی ہیں اور یہ جو بشیر ہونا ہے آپ کا ، اس قدر بشارتیں ہیں انسان کے لئے اس کلام الہی میں جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ان بشارتوں کا تعلق اس ورلی زندگی سے بھی ہے اور ان بشارتوں کا تعلق اس ابدی زندگی کے ساتھ بھی ہے جو انسان کو اس دنیا سے کوچ کرنے کے بعد ملتی ہے۔اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نذیر بھی ہیں مومنوں کے لئے بھی نذیر ہیں اور نہ ماننے والوں کے لئے بھی نذیر ہیں۔عام طور پر جہاں مضمون قرآن کریم کا اجازت نہ بھی دیتا ہو بشیرا ونذيرا کے معنے یہ کر دیئے جاتے ہیں کہ مومنوں کے لئے بشیر اور کافروں کے لئے نذیر لیکن حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ صفت جب قرآن کریم کی اس آیت میں بیان ہوئی وَ مَا اَرْسَلْنَكَ