انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 83 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 83

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطِنِ الرَّحِيمِ ۸۳ سورة سبا بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة سبا آیت ۱۴ يَعْمَلُونَ لَهُ مَا يَشَاءُ مِنْ مَّحَارِيبَ وَ تَمَاثِيلَ وَ جِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَ قُدُورٍ رُّسِيتٍ اِعْمَلُوا آلَ دَاوُدَ شُكْرًا ۖ وَقَلِيلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشكور جہاں تک اللہ تعالیٰ کی ذات کا تعلق ہے ،شکر کے یہ معنے ہوں گے کہ اُس نے ہمیں جو کچھ عطا فرمایا ہے، اُس میں سے ہم اپنے اعمال سے اُس کے حضور ایثار کے رنگ میں یا ہم اپنے اعمال سے اس کے بندوں کی خدمت کی شکل میں یا عملاً اُن حقوق کی ادائیگی کی صورت میں جو حقوق کہ اُس نے ہم پر واجب قرار دیئے ہیں، شکر ادا کریں۔وہ تو دینے والا ہے لینے والا نہیں ہے کیونکہ ہر چیز اُسی کی ہے لیکن انسان اُس کے حضور ( اپنی زبان کے محاورہ کے لحاظ سے) کچھ نہ کچھ پیش کرتا ہے ان شکلوں میں جن کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے۔اسی لئے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ فرمایا ہے :۔اعْمَلُوا آلَ دَاوُدَ شكراً فرما یا شکر گذاری کے ساتھ عمل کرو گویا شکر کے جذبات سے دل کو معمور کرنے کا یہاں ذکر نہیں یا زبان سے شنا کرنے کا یہاں ذکر نہیں یا انسان جو مختلف اوقات میں اللہ تعالیٰ کی بے شمار تسبیح وتحمید کرتے ہیں اس کا یہاں ذکر نہیں بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ اپنے عمل سے شکر ادا کرو۔اسی لئے عربی کی لغت میں جوارح کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے معنے بھی کئے گئے ہیں یعنی وہ تمام طاقتیں جو انسان کو دی گئی ہیں، ان کو ایسے رنگ میں استعمال میں لایا جائے کہ وہ گو یا اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا متصور ہو۔جب تک عمل اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کیا جائے اُس وقت تک انسان کامیاب نہیں ہو سکتا۔