انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 79 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 79

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث گی۔۷۹ سورة الاحزاب (خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۲۵۵) آیت ا۷۲،۷ يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَقُولُوا قَوْلاً سَدِيدَ الى يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرُ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۖ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا اس آیت يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدً ايُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ میں يُصْلِحْ لكم اعمالکم کے الفاظ سے ایک لطیف پیرایہ میں ہمیں دعا کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ایمان کا دعویٰ کرنے والو! خدا کا تقویٰ اپنے اعمال کے ذریعہ سے بھی ظاہر کرو۔ہر اس بات سے بچ کر جو تمہارے رب تمہارے اللہ کی نگاہ میں ناپسندیدہ اور معیوب ہے اور ہر وہ عمل بجالا کر جسے وہ پسند کرتا ہے۔اس کی ڈھال کے پیچھے اور اس کی پناہ میں سارے عمل بجالا کر۔اس کے علاوہ قُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا جو بات کہو وہ صرف سچ ہی نہ ہو بلکہ صاف اور سیدھی ہو۔اس میں کوئی پیچ نہ ہو۔کوئی رخنہ نہ ہو اور کوئی فساد نہ ہو۔یہ سب کچھ کر لینے کے بعد یہ نہ سمجھ لینا کہ تمہارے اعمال ، اعمال صالحہ ہیں۔کیونکہ عمل صالح وہ عمل ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں بھی صالح ہو اور جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے احسان سے صالح بنادیا ہو۔کیونکہ اصلاح میں احسان کرنے کا تصور اور تخیل بھی پایا جاتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے یہاں يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ کا جملہ استعمال فرما کر ہمیں اس طرف متوجہ کیا کہ اپنی طرف سے بظاہر نیک عمل بجالا نا۔اپنی طرف سے بظاہر قول سدید پر قائم ہو جانا ہمیں کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔کیونکہ یہ ساری باتیں اسی وقت اعمال صالحہ شمار ہوسکتی ہیں جب اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل اور احسان سے ان اعمال کو صالح بنادے۔ان کے فساد کو دور کر دے اور جہاں تقویٰ کی باریک راہوں کو چھوڑنے کی وجہ سے کوئی خامی رہ گئی ہو۔اس خامی کے بد نتیجہ سے محفوظ رکھتے ہوئے اور جہاں کوئی طبعی کمزوری پائی جاتی ہو اس کمزوری کو دور کرتے ہوئے محض احسان کے طور پر وہ تمہارے اعمال کو اعمال صالحہ قرار دے دے۔اس وقت تمہیں ان کا ثواب ملے گا۔