انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 78
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ZA سورة الاحزاب کرتے رہو۔فرشتے دعائیں کر رہے ہیں ان کی زبان کے ساتھ ، ان کی آواز کے ساتھ شامل ہو کر تم بھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ کے لئے دعائیں کرو اور اس کے لئے سلامتی مانگتے رہو۔( خطبات ناصر جلد نهم صفحه ۲۴۵) ایک اور عمل صالح جو خدا تعالیٰ کے فضل سے انسان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت کا وارث بنادیتا ہے جس کے متعلق خدا کا وعدہ ہے کہ اگر خلوص نیت کے ساتھ محض رضائے الہی کی خاطر بد نیتی اور ریاء کے بغیر یہ کام کرو گے تو میں اپنی رحمت سے تمہیں نوازوں گا وہ سورۃ احزاب کی آیت ۵۷ میں بیان ہوا ہے روہ یہ ہے کہا اِنَّ اللهَ وَ مَليكتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى اللَّبِي اس آیہ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس طرف متوجہ کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے ایک عظیم بندے تھے ایک نہایت ارفع مقام پر پہنچنے والے عبد تھے، عبد تو تھے لیکن دنیا کے لئے اللہ تعالیٰ کی رحمت جب جوش میں آئی تو اس جوش نے یہ تقاضا کیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا ایک وجود پیدا کرے اور دنیا کی اصلاح اور دنیا پر رحمتوں کے دروازے کھولنے کے سامان پیدا کرے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نبی اکرم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کی بارشوں کا ایک سلسلہ نازل ہورہا ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اس کام پر لگایا ہے کہ وہ آپ کی بلندی درجات کے لئے دعائیں کرتے رہیں اور ان مقاصد کے حصول کے لئے دعائیں کرتے رہیں جو مقاصد عالیہ لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے پس اے انسان! اگر تو چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا وارث بنے اور اگر تو چاہتا ہے کہ خدا کے فرشتے تیرے لئے بھی دعاؤں میں مشغول ہو جائیں تو اپنی زندگی کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقاصد عالیہ کے ساتھ ہم آہنگ کر دے اور ایک جیسا بنادے پھر خدا کی رحمتوں کا بھی تو وارث ہو جائے گا اور فرشتے جو ان مقاصد عالیہ کے حصول کے لئے ان کے پورا ہونے کے لئے دعاؤں میں لگے ہوئے ہیں ان کی دعاؤں کا بھی تو وارث بن جائے گا کیونکہ تیری اپنی زندگی ، تیری اپنی کوششیں اور تیری اپنی فکر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقاصد کو کامیاب بنانے میں لگی ہوئی ہوگی اگر ایسا کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت کے وارث بنو گے اگر ایسا کرو گے تو دنیا بے شک تمہاری مخالفت کرتی رہے دنیا بے شک تمہیں مٹانے کی کوشش کرتی رہے دنیا بے شک تمہیں ہر قسم کا دکھ اور عذاب پہنچانے میں لگی رہے تم اس بات کا یقین رکھو کہ خدا تعالیٰ کی رحمت تمہیں اور صرف تمہیں ملے