انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 77
تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث LL سورة الاحزاب انسان جو کچھ بھی کرتا ہے اور جنہیں وہ اعمال صالحہ سمجھتا ہے وہ بھی اس کے لئے بے ثمر ہیں جب تک اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہو۔خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۲۴۴ تا ۲۴۹) خدا کی تیسری صفت صفت رحیمیت ہے۔آپ صفت رحیمیت کے بھی مظہر اتم ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرمایا كَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا یعنی مومنین کے لئے آپ کی ذات بحیثیت رحیم کے ہے۔مال کو ضائع ہونے سے بچانا۔نیکیوں کا اجر دینا، یہ صفت رحیمیت باری تعالیٰ میں اصل ہے۔اس کے مقابلہ میں فرمایا کہ محمد بھی تمام بنی نوع انسان کے لئے رحیم ہیں۔جو شخص خدا کی آواز پر لبیک کہتا ہوا (خواہ وہ کسی زمانے یا کسی ملک یا کسی قوم کا فرد ہو ) حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں آجائے گا اور آپ کی اتباع کرے گا اور آپ کی ہدایت اور شریعت کا جوا اپنی گردن پر رکھے گا۔اس کا عمل ضائع نہیں ہوگا۔اس کا اُسے ثمرہ ہل جائے گا۔یا کم از کم اس کے ثمرہ کا استحقاق ضرور پیدا ہو جائے گا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔آپ کے صحابہ نے جو منتیں اسلام کے لئے کیں اور ان خدمات میں جو تکالیف اٹھا ئیں وہ ضائع نہیں ہوئیں۔بلکہ اُن کا اجر دیا گیا۔“ (الحکم ۱۰ اگست ۱۹۰۳، صفحہ ۲۰) گویا آپ کی دعاؤں کے نتیجہ میں اور آپ کی قوت قدسیہ کے ذریعہ ثمرہ کا استحقاق پیدا ہو جائے گا۔(خطابات ناصر جلد اول صفحہ ۵۹۲) آیت ۵۷ اِنَّ اللهَ وَمَلَيكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِي يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلَّمُوا تَسْلِيمًا اس عظمتوں والے نبی کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ اللهَ وَمَلَيكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہو رہی ہیں اس النبي پر (جس کا ذکر ابھی پچھلی آیت میں آیا جس کو بیان کیا تھا) اور خدا تعالیٰ کے فرشتے اس کے لئے رحمت مانگ رہے ہیں اور دعائیں کر رہے ہیں اللہی کے لئے۔اس لئے يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اللہ تعالیٰ کے اخلاق تَخَلَّفُوا بِأَخْلاقِ الله (التعريفات جلدا صفحه ۲۱۶) کے مطابق، اللہ تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہو رہی ہیں ، صَلُّوا عَلَيْهِ تم بھی خدا سے درخواست کرو کہ وہ رحمتیں جو ہیں وہ ہر آن زیادہ سے زیادہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوتی رہیں اور دعائیں