انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 76 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 76

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۷۶ سورة الاحزاب اس کی رحمت کے وارث بننے کے لئے یہ ضروری ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ (وہاں رحمت کا لفظ ہے یہاں صلوۃ کا لفظ ہے اور صلوٰۃ کے لغوی معنی جب یہ لفظ اللہ کے لئے استعمال ہو رحمت کے ہیں ) هُوَ الَّذِي يُصَلَّى عَلَيْكُمُ الله تعالیٰ تمہیں اپنی رحمتوں سے نوازے گا نیز اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو کہا ہے میرے وہ بندے جو میرے ذکر کثیر میں مشغول ہوں اور صبح و شام میری تسبیح اور تحمید میں لگے ہوں ان کے لئے تم بھی دعائیں کرتے رہو کیونکہ صلوۃ کا لفظ جب ملائکہ کے لئے آئے یا انسانوں کے لئے آئے تو اس کے معنی دعا کرنے کے ہوتے ہیں لیکن جب اللہ تعالیٰ کے لئے آئے تو اس کے معنی ہوتے ہیں رحمت کا سلوک کیا اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری یہ رحمت ذکر کثیر اور صبح و شام تسبیح کرنے کے نتیجہ میں جس شکل میں ظاہر ہوتی ہے وہ اصولی ہے یہ نہیں کہا کہ فلاں رحمت یا فلاں رحمت۔قرآن کریم نے اس کی تفصیل بھی بتائی ہے لیکن یہاں یہ فرمایا ہے کہ اصولی طور پر تم خدا کی رحمت کے مستحق اور ملائکہ کی دعاؤں کے وارث ہو جاؤ گے اور اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ تمہارے لئے نور کے سامان پیدا کئے جائیں گے یعنی اس کے نتیجہ میں لیخْرِجَكُم مِّنَ الظُّلُمتِ إِلَى النُّوْرِ اندھیرے دور کر دیئے جائیں گے اور زندگی منور ہو جائے گی اور اس نور کے متعلق قرآن کریم نے تفصیل سے روشنی ڈالی ہے کہ وہ نور اس دنیا میں بھی صراط مستقیم سے بھٹکنے سے محفوظ رکھتا ہے اور رحمت کے راستوں پر چلاتا ہے مثلاً رات کے اندھیرے میں جس وقت ہوائی جہاز کسی ایروڈ رام پر اتر رہا ہوتا ہے تو اس کو راستہ دکھانے کے لئے روشنیاں جلائی جاتی ہیں اسی طرح سمجھ لیں کہ آپ رحمت باری کے حصول کے بعد اندھیروں سے نکل کر روشنی کی راہ کو اختیار کرتے ہیں تو آپ کو یقین ہوتا ہے (جس طرح اس پائلٹ کو یقین ہوتا ہے کہ میں صحیح سلامت خود بھی اور مسافروں کو بھی اتاروں گا) کہ آپ صراط مستقیم پر قائم ہیں تو یہ ایک بنیادی فضل اور احسان ہے اللہ کا جو وہ اپنے بندوں پر کرتا ہے یعنی ان کے لئے ایک نور کی پیدائش کا حکم نازل کرتا ہے اور خدا کا ایک مومن بندہ خدا کے نور میں صراط مستقیم پر آگے ہی آگے بڑھتا چلا جاتا ہے اور اس کے بے شمار فضلوں اور رحمتوں کا وارث بنتا ہے پس اللہ تعالیٰ نے جب یہ کہا کہ میں اگر کسی کے لئے رحمت کا ارادہ کروں تو دنیا کی کوئی طاقت اسے میری رحمت سے محروم نہیں کر سکتی تو وہاں یہ مطلب نہیں تھا کہ بلا وجہ اور بغیر انسان کی کسی کوشش اور عزم کے کہ میں نے خدا کے احکام کی پابندی کرنی ہے کسی گندے نا اہل کو اٹھا کر اللہ تعالیٰ رحمت کا وارث بنادیتا ہے یہ صحیح ہے کہ