انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 75 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 75

تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۷۵ سورة الاحزاب میری طرف کوئی توجہ نہ دی پھر جب ساروں نے انعام لے لئے تو اس نے اپنا سامان لپیٹنا شروع کر دیا اس نے کہا میں آگے بڑھا اور کہا کہ میرا انعام کہاں ہے فرشتہ نے کہا تمہارا انعام کیسا ( وہ تو سمجھے تھے کہ میں سو دفعہ پڑھتا ہوں مجھے شائد زیادہ انعام ملے گا ) یہ انعام تو ان لوگوں کو مل رہا ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی کرتے تھے تم نے ۳۳ دفعہ کی بجائے سو دفعہ پڑھا ہے سنت کی پیروی نہیں کی اس پر انہوں نے بہت استغفار کیا لیکن کوئی خلط ملط نہ ہو جائے کسی کے دماغ میں اسی لئے میں نے شروع میں اس سلسلہ میں یہ فقرے کہے تھے کہ ایک ذکر وہ ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق اس تسلسل میں جو آپ نے بتایا اس تعداد میں جو آپ نے معین کی اور جس پر آپ نے عمل کیا وہ ذکر ہے مثلاً نماز میں فرائض کے بعد تنبتی تنیس بار جو اس سنت نبوی پر عمل کرتے ہوئے ذکر کرنا چاہئے اس کو نماز کے بعد ہی کرنا پڑے گا نماز سے پہلے نہیں اور ۳۳۔۳۳ دفعہ ہی کہنا پڑے گا ایک تو یہ ذکر ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اور بھی کئی سنتیں اس سلسلہ میں ہیں لیکن ایک ذکر وہ ہے جو عام ہدایت کی اتباع میں ہے مثلاً اس آیت کریمہ میں ہے ذِكْرًا كَثیرا کہ کثرت سے ذکر کرو اس میں تعیین کوئی نہیں نہ ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کوئی تعیین کی تو ان اذکار کے علاوہ جو سنت نبوی سے ہمیں معلوم ہوتے ہیں اگر کوئی شخص خدا تعالیٰ کے اس حکم کے مطابق کہ اُٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے خدا تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہنا چاہے وہ اپنے لئے کم سے کم یا جماعت کا امام جماعت کیلئے کم سے کم ذکر مقرر کر دیتا ہے تو یہ سنت نبوی کے خلاف نہیں کیونکہ آپ کی سنت کہیں ہمیں یہ نہیں بتلاتی کہ چوبیس گھنٹے میں اس سے زیادہ ذکر نہیں کرنا یا اس سے کم نہیں کرنا بلکہ عام نصیحت ہے کہ زیادہ سے زیادہ ذکر کرو۔تو زبان کا ذکر ایک تو وہ ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے اتباع میں کیا جاتا ہے اور ایک وہ ہے جو قرآن کریم کی تعلیم اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق ذکر کثیر کے اندر آتا ہے۔بعض آدمی اپنے لئے تعیین کرتے ہیں کہ کم سے کم اس قدر ذکر ضرور کروں گا بعض اوقات ان کا امام تعیین کرتا ہے ذکراً کثیرا کی روشنی میں اس میں کم سے کم تعداد کی تعیین کی جاتی ہے زیادہ سے زیادہ کتنا ہوا سے افراد پر چھوڑا جاتا ہے تاکہ ساری جماعت کا معیار بلند کیا جا سکے۔پس اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا کہ صبح و شام اس کی تسبیح میں مشغول رہو اور خدا تعالیٰ کا ذکر بہت کیا کرو