انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 66
تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۶۶ سورة الاحزاب لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اُمت محمدیہ کے لئے اسوۂ حسنہ قرار دینے کے بعد اور آپ کی ازواج مطہرات کو مومنوں کی مائیں قرار دینے کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ یہ بیویاں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں ہیں نکاح کے وقت ان کے ساتھ کوئی ایسا سمجھوتہ نہیں تھا کہ وہ اُمت محمدیہ کے لئے اُسوہ حسنہ بنیں گی اور اس بھاری ذمہ داری کو اٹھا ئیں گی جیسا کہ مومنوں کی مائیں۔بہر حال مومنوں کے لئے اسوۂ حسنہ اور تربیت کا ایک مرکزی نقطہ (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ) بنتی ہیں اور کوئی کہہ سکتا تھا کہ ان کو جبراً اس مقام پر لا کھڑا کیا اور ان کو یہ حکم دیا کہ تمہیں ضرور تنگی ترشی کو اختیار کر کے اور ہر قسم کی قربانی دے کر اور اس دنیا سے منہ موڑ کر اپنے نفس پر فنا طاری کر کے اُمت کے لئے ایک اُسوہ بننا پڑے گا۔ورنہ ہم تمہیں سزا دیں گے چونکہ مذہب میں خصوصاً مذہب اسلام میں جبر جائز نہیں ان کے لئے کوئی راہ نکالنی ضروری تھی اور اگر چہ جیسا کہ عملاً دیکھنے میں آیا ہماری یہ مائیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے امہات المومنین قرار دیا ہے (سورۃ احزاب میں ) اس قدر تربیت یافتہ تھیں کہ جو اختیار ان کو ان آیات میں دیا گیا۔اس کے بعد ان کے فیصلے نے یہ بتا دیا کہ واقعی وہ اُمہات المومنین بننے کی اہل تھیں۔لیکن بہر حال دنیا کو بھی یہ بتانا تھا کہ جبر سے کام نہیں لیا گیا بلکہ اپنی مرضی سے انہوں نے اس اہم اور مشکل ذمہ داری کو اپنے کندھوں پر اٹھایا تھا۔ان آیتوں کو اختیار دینے کی آیات بھی کہا جاتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے جب ان کو امہات المومنین اور اُمت محمدیہ کی مسلمان عورتوں کے لئے اسوہ حسنہ قرار دیا تو ان کے سامنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان آیات کی روشنی میں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور وحی آپ پر نازل ہوئیں۔یہ بات پیش کی جس کا ذکر ان آیات میں ہے۔ان آیات کے نزول کے بعد سب سے پہلے آپ حضرت عائشہ کے پاس گئے اور آپ نے انہیں مخاطب کر کے فرمایا کہ اے عائشہ! میں تم سے ایک اہم بات کرنا چاہتا ہوں لیکن قبل اس کے کہ میں وہ بات تمہارے ساتھ کروں تمہیں یہ تاکید کرنا چاہتا ہوں کہ جواب دینے اور فیصلہ کرنے میں جلد بازی سے کام نہ لینا بلکہ خوب سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا اور جواب دینا بلکہ بہتر یہ ہے کہ تم اپنے والدین سے بھی اس کے متعلق مشورہ کر لو اور پھر مجھے جواب دو۔