انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 65
تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث سورة الاحزاب آیت ۲۹ تا ۳۲ اَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِاَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَ تُرِدْنَ الْحَيَوة الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعَكُنَ وَ أَسَرَّحُكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا وَإِنْ كنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَتِ مِنكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا يُنِسَاءَ النَّبِيِّ مَنْ يَأْتِ مِنْكُنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ يُضْعَفُ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَيْنِ وَ كَانَ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرًا وَ مَنْ يقنتُ مِنْكُنَ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ وَتَعْمَلُ صَالِحًا نُوْتِهَا أَجْرَهَا مَرَّتَيْنِ وَاعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِيمًا لا جن آیات کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے وہ سورۃ احزاب کی ہیں۔ان میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اے نبی! اپنی بیویوں سے کہ کہ اگر تم دنیا اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ دنیوی سامان دے دیتا ہوں اور تمہارے حقوق ادا کر کے تم کو نیک طریق سے رخصت کر دیتا ہوں اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور اُخروی زندگی کے گھر کو چاہتی ہو تو اللہ تعالیٰ نے تم میں سے پوری طرح اسلام پر قائم رہنے والیوں کے لئے بہت بڑا انعام تیار کیا ہے۔اے نبی کی بیویو! اگر تم میں سے کوئی اعلیٰ ایمان کے خلاف بات کرے تو اس کا عذاب دگنا کیا جائے گا۔اور یہ بات اللہ پر آسان ہے اور تم میں سے جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گی اور اس فرمانبرداری کی شان کے مطابق عمل بھی کرے گی۔تو ہم اسے انعام بھی دگنا دیں گے اور ہم نے ہر ایسی بیوی کے لئے معزز رزق تیار کیا ہوا ہے۔سورۃ احزاب کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان فرمایا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں۔فرمایا اَزْوَاجة امهتُهُمُ اور آگے جا کر اسی سورۃ میں اللہ تعالیٰ نے اُمت محمدیہ کو اس طرف بھی متوجہ کیا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمام اُمت کے لئے اور ہر زمانہ کے مسلمانوں کے لئے اُسوہ حسنہ ہیں۔تم اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل ہی نہیں کر سکتے اس کی محبت اور پیار کو پاہی نہیں سکتے جب تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیار کر کے ، آپ کو اپنے لئے بطور نیک نمونہ سمجھتے اور یقین کرتے ہوئے آپ کے نمونہ کے مطابق اپنی زندگیاں نہیں ڈھالو گے۔جیسا کہ فرما یا لقد گان