انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 64 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 64

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶۴ سورة الاحزاب میری رحمت تمہیں نہیں مل سکے گی اور اگر رحمت تمہیں دینا چاہوں گا تو دنیا کی کوئی طاقت میری رحمت سے محروم نہیں کر سکے گی میری گرفت سے بھی تم نہیں بچ سکتے اور میرے احسان کی بارش سے بھی دنیا کی کوئی طاقت تمہیں محروم نہیں کر سکتی اس لئے ہمیں اللہ تعالیٰ نے ضرور تفصیلی ہدایات دی ہوں گی کہ وہ کونسی باتیں ہیں جن کے نتیجہ میں انسان خدا تعالیٰ کی رحمت سے محروم ہو جاتا ہے اور وہ کون سے اعمال ہیں جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر خوش ہوتا اور اپنی رحمت سے اسے نوازتا ہے۔پہلے حصہ کے متعلق میں نے سورۃ احزاب کی بعض آیات لے کر تفصیل سے بتلایا تھا کہ (غالباً) دس ایسی باتیں یا ایسے اعمال شنیعہ ہیں جن کے نتیجہ میں انسان اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم ہو جاتا ہے اور بطور مثال صرف اسی سورۃ کی آیتیں لے کر میں نے یہ مضمون بیان کیا تھا۔دوسرا حصہ اس مضمون کا یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ انسان کو اپنی رحمت سے نوازنا چاہے تو دنیا کی کوئی طاقت اس سے ایسے انسان یا جماعت کو محروم نہیں کر سکتی اس کے متعلق میں نے سورۃ احزاب کی ہی اس آیت کے بعد کی آیات کو لیا اور انہیں پڑھتے ہوئے میں نے غور کیا کہ وہ کیا بتاتی ہیں اور بہت سی آیات میں نے نوٹ کی تھیں پہلے تو میرا خیال تھا کہ وہیں یہ مضمون ختم ہو جائے گا لیکن وہاں یہ ختم نہیں ہوا اور یہ رحمت والا حصہ اب کراچی کے حصہ میں آ گیا ہے مضمون کے لحاظ سے اور خدا کرے کہ ہم سب کے حصہ میں اس کی رحمت ہی آئے اس کے غضب کی نگاہ ہم پر کبھی نہ پڑے اور یہ اس کے فضل سے ہی ہوسکتا ہے۔یہاں یہ فرمایا تھا کہ اگر میرے عذاب سے بچنا ہو تو میری طرف رجوع کرنا پڑے گا اگر میری رحمت حاصل کرنا ہو تو میری رحمت صرف میرے فضل سے حاصل کی جاسکتی ہے کسی عمل سے حاصل نہیں کی جاسکتی اس لئے جہاں میری بتائی ہوئی تدبیر پر تم عمل کرو وہاں دعا کے ساتھ میری طرف رجوع بھی کرتے رہو کہ ہمارے اعمال میں کوئی ایسا نقص کوئی ایسی شیطنت کوئی ایسی بدنیتی نہ رہ جائے که با وجود ظاہراً ان اعمال کے اچھا ہونے کے پھر بھی تیرے حضور سے وہ دھتکار دیئے جائیں۔خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۲۴۴ تا ۲۴۶)