انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 700
تغییر حضرت خلیفہ امسح الثالث سورة الناس بعد بھی جب کبھی انسان گناہ کا مرتکب ہوا ہے تو اسی شیطانی وسوسہ کے نتیجہ میں ہوا ہے۔مثلاً وہ لوگوں کے دلوں میں یہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ خدا کے جتنے رسول بھی آئے ہیں وہ تمہیں یہ تعلیم دیتے چلے آئے ہیں کہ اپنے پیدا کرنے والے، اپنے رب، اپنے اللہ سے خوفًا وَطَمَعًا خوف کی وجہ سے اور طمع کی وجہ سے تعلق قائم کرو۔پس ہر وہ چیز جس کا خوف تمہارے دل میں پیدا ہو یاوہ چیز جسے تم سمجھو کہ تمہیں نفع پہنچانے والی ہے۔تم اس کی عبادت کرو کیونکہ مذکورہ تعلیم کا یہی نتیجہ نکلتا ہے۔تو سانپ کی عبادت خوف کی وجہ سے شیطانی وسوسہ کے نتیجہ میں پیدا ہوئی۔بڑ کے درخت کی عبادت بھی جو اس آرام (طبعا ) کی وجہ سے پیدا ہوئی۔جو اس کے نیچے بیٹھنے سے حاصل ہوتا ہے تو یہ سب شیطانی وسوسہ کا نتیجہ ہے۔پس ہزاروں مثالیں ایسی پائی جاتی ہیں جو شیطان کے وسوسہ کے نتیجہ میں شرک کے پیدا ہونے کو ثابت کرتی ہیں۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہر گناہ کا تعلق شیطانی وسوسہ سے ہے اور شیطان یہ وسوسے انسان کے دل اور سینہ میں پیدا کرتا ہے۔گویا تمام روحانی بیماریوں کا مصدر انسان کا سینہ یا اس کا دل ہے کیونکہ شیطانی حربوں اور حیلوں اور تدبیروں کی آماجگاہ صدر انسانی ہی ہے اور روحانی ترقیات کے لئے پہلے سینہ و دل کی صفائی اور صحت و سلامتی بہت ضروری ہے کیونکہ بیمار سینہ و دل کفر کے لئے کھل جاتا ہے اور ایمان کے لئے مقفل ہو جاتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے۔وَلكِنْ مَنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ۔(النحل: ۱۰۷) وہ جنہوں نے شیطانی وساوس کو قبول کر کے اپنا سینہ کفر کے لئے کھول دیا۔ان پر اللہ کا بہت بڑا غضب نازل ہوگا اور ان کے لئے بہت بھاری عذاب مقدر ہے۔تو اس آیت میں بتایا کہ شیطانی وسوسہ کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کا سینہ کفر کے لئے کھل جاتا ہے۔اس کے مقابلہ میں خدا تعالیٰ نے قرآن مجید میں شرح کے لفظ کو اس سینہ و دل پر بھی استعمال کیا ہے جو کفر کے لئے بند ہو جاتا ہے اور جس کی کھڑکیاں خدا کی طرف کھل جاتی ہیں۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری جگہ فرمایا۔فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِى فِي الصُّدُورِ - (الحج: ۴۷) کیونکہ اصل