انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 696
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶۹۶ سورة الاخلاص واسطہ نہ زمانہ کے ساتھ۔یہ چیزیں تو ہمارے لئے ہیں، مخلوقات کے لئے۔خدا تعالیٰ نہ زمانے میں بندھا ہوا ہے نہ کسی مکان میں محصور ہے بلکہ بالائے زمان و مکان اس کی ہستی ہے۔اللہ کے سوا ہر چیز اس لحاظ سے بھی اس کے مقابلہ پر نہیں آسکتی کہ جس کو خدا نے پیدا کیا وہ ازلی نہیں رہا اور جب وہ فنا ہو جائے ، فنا اس پر وارد ہو جائے تو وہ ختم ہو جاتا ہے ابد کا سوال ہی نہیں رہتا۔نہ خدا نے اپنے جیسا، اپنی جنس کا کوئی اور وجود جنا نہ وہ جنا گیا۔اس میں بھی ازلی ابدی تصور ہے خدا تعالیٰ کے قانونِ قدرت پر جب ہم نگاہ ڈالتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہستیاں اولاد پیدا کرتی ہیں جو زوال پذیر ہوں تا کہ جو ان کے بچے پیدا ہوں وہ آگے ان کی جگہ لینے والے ہوں لیکن جس نے ہمیشہ قائم رہنا ہے اس کو اس کی احتیاج بھی نہیں اور اس نے ایسا کیا بھی نہیں کیونکہ یہ اس کی صفات کے خلاف ہے اور ہمارے اللہ کو کسی اور نے پیدا نہیں کیا کیونکہ ھو الاول سب سے پہلے اس کی ذات ہے جس سے پہلے کوئی ہے ہی نہیں اس نے اس کو پیدا کیسے کرنا تھا۔وَ لَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا اَحَدٌ خدا تعالیٰ کی صفات میں بھی اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔خدا تعالیٰ کی صفات میں کوئی شریک نہیں اس معنی میں کہ جہاں کہیں اس کی مخلوق میں اور اس میں مماثلت یا مشابہت پائی جاتی ہے وہاں بھی بنیادی طور پر اتنا عظیم فرق ہے کہ ان دو چیزوں کو ہم ایک نہیں کہہ سکتے مثلاً ہم کہتے ہیں کہ اللہ سنتا ہے اس کی ایک صفت السمیع بھی ہے اور انسان بھی سنتا ہے لیکن انسان کے سنے اور اللہ تعالیٰ کے سننے میں بنیادی طور پر بہت بڑا فرق ہے۔خدا تعالیٰ سنتا ہے بغیر کسی آلہ کی احتیاج کے اور انسان سنتا ہے اپنے کان سے۔خدا تعالیٰ سنتا ہے بغیر صوتی لہروں کے اس کو سننے کے لئے ان کی ضرورت نہیں ہے لیکن ہمارے کان کو صوتی لہروں کی اور وہ بھی خاص حدود کے اندر مقید لہروں کی ضرورت ہے جن کو صرف انسان کا کان سن سکتا ہے بعض دوسری لہریں ہیں جن کو بعض جانور سنتے ہیں انسان نہیں سن سکتا۔میں یہ بتا رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ بھی سنتا ہے اور انسان بھی سنتا ہے لیکن خدا تعالیٰ بغیر کسی مادے کی احتیاج کے، بغیر کسی کان کے سنتا ہے اور اس کو سننے کے لئے صوتی لہروں کی ضرورت نہیں ہے لیکن وہ سنتا ہے جو دعائیں ہم کرتے ہیں وہ صوتی لہروں کے ذریعہ سے اس تک نہیں پہنچتیں بلکہ وہ ان کے بغیر ہی سنتا ہے۔ان لہروں کی اس کو ضرورت نہیں ہے اسی طرح ہم دیکھتے ہیں ہمیں آنکھ کی ضرورت ہے ہم دیکھتے ہیں ہمیں سورج کی روشنی کی ہمارے اپنے وجود سے باہر کی روشنی کی ہمیں