انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 692
تفسیر حضرت خلیفۃ السیح الثالث ۶۹۲ سورة الكوثر فرما یا لا تَايْسُوا مِنْ خَزَائِنِ رَحْمَةِ رَبِّي ( تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحه ۴۴۰) ابھی تک جو مسلمان احمدی نہیں ہوئے ان پر تنزلی کا زمانہ ہے وہ بڑے مایوس ہیں۔مایوس ہونا بھی چاہئے کیونکہ ہر طرف الہی وعدوں کے خلاف تنزلی اور بے عزتی کے حالات میں سے وہ گزر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں معاف کرے اور انہیں ہدایت دے۔لَا تَايُعَسُوا مِنْ خَزَابِنِ رَحْمَةِ رَبِّي- میں اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو مخاطب کر کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعے یہ فرما یا کہ اس کی رحمت کے خزانے جو کوثر کی شکل میں اس سے پہلے آئے تھے وہ اب پھر آنے والے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ کی رحمت کے خزائن سے تم مایوس نہ ہو۔انا اعطينكَ الكوثر یہ اسی الہام کا ایک حصہ ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فرزند ہیں۔اسلئے ہم اس کا ترجمہ یوں کریں گے کہ وہ کوثر جو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا ہوا تھا اس کا تمہیں پھر سے مہتم بنا کر مبعوث کیا ہے۔اس کوثر کا اہتمام ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑے زور سے فرمایا ہے ”سب کچھ تیری عطا ہے گھر سے تو کچھ نہ لائے ( در ثمین صفحہ ۳۶) پس فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے جو خزانے دنیا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اسلام کی نشاۃ اولیٰ میں حاصل کئے اور آسمان سے نازل ہوتے دیکھے۔دنیا اب وہی جماعت احمدیہ کی شکل میں دوبارہ دیکھے گی کیونکہ کوثر کا مہتم حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کو بنادیا گیا ہے۔خطبات ناصر جلد سوم ۳۱۷، ۳۱۸)