انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 60
تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۶۰ سورة الاحزاب مردہ رہے ہم تیرے ساتھ زندہ تعلق تو قائم نہیں کر سکتے اس نبی کے طفیل ہی یہ فیض حاصل ہوسکتا ہے اس کے بغیر تو حاصل نہیں ہوسکتا پس اے ہمارے رب ہم کو یہ طاقت بخش اور توفیق عطا کر کہ ہم تیرے اس نبی کی اتباع ایسے رنگ میں کر سکیں جس رنگ میں تو چاہتا ہے کہ ہم کریں اور اس کے نتیجہ میں اے ہمارے ربّ روحانی طور پر ہمیں زندہ کر دے تاکہ ہمارا تعلق تیرے ساتھ قائم ہو جائے تو یہاں یہ فرمایا کہ جو شخص روحانی زندگی کے نتیجہ میں زندہ خدا سے زندہ تعلق قائم کرنا چاہتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کی پیروی کرے قرآن کریم نے بڑی وضاحت سے یہ بیان کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض کے ذریعہ ہی یہ روحانی زندگی حاصل کی جاسکتی ہے خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۲۶۲ تا ۲۶۸) قرآن کریم سے ہمیں پتا لگتا ہے کہ اس انسان کے لئے جو اپنے رب کریم کی معرفت رکھتا ہے اللہ ہی کافی ہے کسی اور کی اسے ضرورت نہیں۔جہاں تک انسان کا اپنے رب پر کامل توکل کا تعلق ہے اس سلسلہ میں خدا تعالیٰ کی کامل عبودیت اختیار کرنی پڑتی ہے یعنی انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو فطری قومی دیئے ہیں وہ سب خدا تعالیٰ کے رنگ میں رنگین ہوں اور انسان اپنی طاقت اور اپنے دائرہ استعداد کے اندر اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر بننے کی کوشش کرے لیکن جب تک ہمارے سامنے کوئی نمونہ نہ ہوتا اس وقت تک ہمارے لئے خدا کی صفات کا مظہر بننا مشکل ہو جاتا اس لئے جہاں بنیادی حقیقت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہمارے لئے کافی ہے وہاں اس صداقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ایک کامل نمونہ کے بغیر انسان اللہ تعالیٰ تک پہنچ نہیں سکتا۔اسے یہ معلوم نہیں ہوسکتا کہ کن راہوں کو اختیار کر کے اور کس طرح وہ اپنے رب کریم تک پہنچے۔پس دوسری چیز جو ہمارے لئے ضروری ہے وہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت ہے اور اس کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کامل اسوہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہمارے سامنے رکھا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:- لَقَد كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ یہ ہے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جلال اور آپ کی عظمت شان اور جب پہلے بزرگ انبیاء پر آپ کی شان کو ظاہر کیا گیا تو انہوں نے بھی آپ