انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 679 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 679

تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶۷۹ سورة البينة جسمانی، اخلاقی، دینی اور دنیوی ترقیات کے لئے اسلام نے تمہارے ہاتھ میں کتنی حسین تعلیم دی ہے۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تم پر کتنا بڑا احسان کیا ہے لیکن جب تک ان کے اندر ایک گدھے کی یا ایک بھیڑیئے کی یا ایک سانپ کی یا ایک بچھو کی خاصیت رہتی ہے وہ آپ کی بات سمجھ ہی نہیں سکتے۔وہ سمجھتے ہیں کہ پاگل ہو گئے ہیں جو ہمارے پاس یہ تعلیم لے کر آگئے ہیں۔پس ضروری ہے کہ پہلے ان کو انسان بنایا جائے اور جن پر انسان بنانے کی ذمہ داری ہے وہ اس کی طرف توجہ نہیں کرتے ، وہ محاسبے کی ذمہ داریوں کو نہیں نباہتے۔ہم مسلمان احمدیوں کا فرض ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّین کے مختلف معانی کے لحاظ سے جتنی ذمہ داریاں ڈالی ہیں ہم ان پر غور کرتے رہیں اور ان کو نباہنے کی کوشش کرتے رہیں۔دو اور ذمہ داریاں ہیں وہ انشاء اللہ اگلے خطبہ میں بیان ہو جا ئیں گی۔خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۵۹۰ تا ۶۰۰) پچھلے خطبات میں میں بتا چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی سچی حقیقی اور خالص عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔اس لئے اصولاً انہیں ایک ہی حکم دیا گیا اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اللہ کے غیر کی پرستش نہ کرو۔شریعت کی ساری تعلیم اور ہدایت۔اس کے سب احکام اور نوا ہی اسی مرکزی نقطہ کے گرد گھومتے ہیں اور عبادت کی حقیقت اللہ تعالیٰ نے اس فقرہ میں بیان کی ہے کہ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّين دین کے مختلف معانی حقیقی عبادت کے مختلف تقاضوں پر روشنی ڈالتے ہیں۔اس وقت تک میں نو تقاضوں کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کر چکا ہوں۔دین کے دسویں معنی جو یہاں چسپاں ہوتے ہیں قضا یا فیصلہ کے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تمہاری زندگیاں ایک نقطہ نگاہ سے فیصلوں کے گٹھڑ ہیں۔ہم صبح سے لے کر شام تک بیسیوں سینکڑوں بلکہ بعض دفعہ ہزاروں فیصلے کرتے ہیں۔ہم اپنے متعلق بھی فیصلے کرتے ہیں۔مثلاً ہم یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ آیا ہم نے اپنے اوقات کو گپ شپ میں خرچ کرنا ہے یا اللہ تعالیٰ کے ذکر سے ان کو معمور کرنا ہے۔ہم یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ آج کے مختلف کاموں کو کن اوقات میں کرنا ہے۔مجھے قریباً ہر روز سوچ کر یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ میں نے اپنے کاموں کو کس پروگرام کے ماتحت کرنا ہے۔مثلاً ڈاک میں فلاں وقت دیکھ سکتا ہوں اس لئے میں ڈاک اس وقت دیکھوں گا یا فلاں کام فلاں وقت کروں گا۔بعض وقت دوست بے وقت ملنے کے لئے