انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 678
تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶۷۸ سورة البينة اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ عبادت کے لئے تم پیدا ہوئے ہو اور یہ تمہیں کرنی چاہیے لیکن اگر تم حقیقی اور سچی عبادت کرنا چاہتے ہو تو تمہیں میرے لئے دین کو خالص کرنا ہوگا اور میری رضا کے لئے محاسبہ کے میدان میں ہر قدم اُٹھانا پڑے گا۔تمہارا جو قدم میری رضا کے لئے نہیں ہو گا وہ ہلاکت کی طرف، وہ دوزخ کی طرف، میری ناراضگی کی طرف لے جانے والا ہو گا۔اس کے لئے محاسبہ کے میدان میں سزا یا معافی دیتے وقت اس شخص کا اس کے ماحول کا صحیح علم رکھنا بڑا ضروری ہے۔دنیا میں بڑے فسادات اسی وجہ سے آج پیدا ہور ہے ہیں۔اٹلی میں اور بعض دوسرے ممالک میں طالب علموں نے ہنگامے کئے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اسلامی تعلیم کی رو سے ان طلباء کے جو راعی ہیں اور جو ان کی تعلیم ، اخلاق اور تربیت کے ذمہ دار ہیں وہ علم کے بغیر قدم اُٹھاتے ہیں اور مشفقانہ اصلاح کی بجائے غلط طریق پر غصہ نکالتے ہیں۔انہیں چاہیے کہ ان کو عقل سے، پیار سے سمجھا ئیں۔اگر چہ یہ صحیح ہے کہ بعض لوگ پھر بھی شیطان کی گود میں بیٹھنا ہی پسند کریں گے لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ انسانی فطرت بنیادی طور پر شریف واقع ہوئی ہے لیکن آج کا انسان انسانیت سے بھی دور جاچکا ہے مذہب تو بعد کی بات ہے پہلے تو ایسے لوگوں کو ہم نے انسان بنانا ہے پھر اس کے بعد خدا اور رسول کی باتیں ان کو سنائی جائیں گی۔جو شخص فطرت کے مسخ ہو جانے کے نتیجہ میں انسان کی بجائے گدھے اور بھیڑیے کے اخلاق اپنے اندر رکھتا ہے اس کی اصلاح کے لئے ضروری ہے کہ پہلے اس کو انسان بنایا جائے، پھر انسان سے روحانی انسان، خدا رسیدہ انسان، اللہ کا پیارا اور محبوب انسان بنایا جاسکتا ہے لیکن جو اپنے اخلاق و اطوار میں انسان ہی نہیں مذہب اس کے لئے کیا کر سکتا ہے اور مذہب کا حسن یعنی اسلام کا ( میرے نزدیک اس وقت سچا مذہب اسلام ہی ہے ) حسن اور اسلام کے احسان کو وہ سمجھ ہی کیسے سکتا ہے پہلے لوگوں کو انسان بنانا چاہیے۔انسانی اقدار پیدا کرنے کی جن لوگوں پر ذمہ داری ہے وہ اس طرف متوجہ نہیں ہوتے اور انسانیت دن بدن حیوانیت کی طرف دھکیلی جا رہی ہے اور کسی کو اس کی فکر نہیں۔آپ کو اس کی فکر ہونی چاہیے۔یہ سوچنا چاہیے کہ وہ مخلوق جسے اللہ تعالیٰ نے انسان بنا یا تھا وہ حیوانیت کی طرف کیوں مائل ہو رہی ہے اور ان کو واپس انسان بنانے کیلئے ہمیں کیا کوششیں کرنی چاہئیں۔پھر آپ میں یہ احساس پیدا ہو گا کہ کتنی بڑی ذمہ داریاں آپ کے کندھوں پر عائد ہوتی ہیں پہلے ان کو انسان کے دائرہ کے اندر لائیں گے پھر ان کو کہیں گے کہ دیکھو انسان کی روحانی،