انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 665 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 665

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث سورة البينة اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطِنِ الرَّحِيمِ بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة البينة آیت وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ يُقِيمُوا الصَّلوةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَوةَ وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ اللہ تعالیٰ کی عبادت کا کیا مفہوم ہے؟ یعنی یہ جو حکم دیا گیا ہے کہ چونکہ پیدائش انسانی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا ہے اور ہر انسان کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنی چاہیے تا کہ مقصدِ حیات حاصل ہو اس آیہ کریمہ میں عبادت کا جو لفظ استعمال کیا گیا ہے اللہ کے نزدیک اور شریعت اسلامیہ کی رو سے اس کے کیا معنی ہیں؟ اس کی وضاحت کرتے ہوئے خدا تعالیٰ نے سورہ بینہ میں فرمایا کہ انہیں صرف یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اللہ کی عبادت کریں۔دین کو محض اور محض اللہ کے لئے خالص کرتے ہوئے اس فقره یعنی مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّین میں اللہ تعالیٰ نے عبادت کے اس مفہوم پر روشنی ڈالی ہے جو خدا تعالیٰ کے اس ارشاد میں ہے کہ انسان کی پیدائش کی غرض اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے۔مُخْلِصِينَ لَهُ الدین پر جب ہم غور کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ لغت کی رُو سے الدین مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے جن میں سے میرے خیال میں مندرجہ ذیل گیارہ معانی یہاں چسپاں ہوتے ہیں۔دین کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ عبادت کرنا الدين العبادَةُ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے جب یہ کہا کہ انسان اللہ کی عبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے تو میرا مطلب اس سے یہ ہے کہ ہر قسم کی عبادت اور پرستش صرف اور صرف اللہ کے لئے ہو اور اللہ ہی کی عبودیت اختیار کی جائے۔انسان اپنی