انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 661
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶۶۱ سورة القدر زمانہ خدا تعالیٰ کی محبت کو حاصل کرنے کے بعد خود پیدا کرنا ہوگا البتہ اللہ تعالیٰ نے اس کے حصول کے لئے انفرادی طور پر ہمارے لئے لیلتہ القدر کی قسم کی چیزیں بنادی ہیں اور فرمایا ہے کہ کبھی تم لیلتہ القدر کو رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرنا اور کبھی تم ہماری یہ لیلتہ القدر جس میں ہماری قدرت کے ہر دو جلوے ظہور پذیر ہوتے ہیں ایسے وقت میں دیکھو گے جب رمضان نہیں ہوگا بلکہ اس کے علاوہ کسی دوسرے وقت میں تمہارے لئے ایک بالکل مصفی اور اصفی کیفیت روحانی اور کیفیت قلبی پیدا کر دی جائے گی اور اس اصفی کیفیت میں تم اپنے رب کے پیار کو دیکھو گے، وہ رمضان کا مہینہ ہوگا یا رمضان کے بعد کے چھ ماہ کا وقت ہو گا۔اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔تمہارے لئے وہ لیلتہ القدر مقدر کر دی جائے گی۔( خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۱۹۹۸ تا ۱۰۰۷) رمضان کے مہینے کی دو بنیادی خصوصیتیں یہ ہیں (ویسے ان کے علاوہ اور بھی خصوصیات ہیں لیکن دو بنیادی خصوصیات میں سے ) ایک یہ ہے کہ ماہ رمضان کا تعلق لیلتہ القدر سے ہے اور دوسری خصوصیت یہ ہے کہ اس ماہ رمضان کا تعلق ان انتہائی قربانیوں کے ساتھ ہے جو ایک انسان اپنے رب کے حضور پیش کرتا ہے جہاں تک لیلتہ القدر کا تعلق ہے اصلی اور حقیقی لَيْلَةُ الْقَدْرِ تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کی وہ اندھیری رات تھی جسے اس نور مجسم نے ہر پہلو سے روشنی میں تبدیل کر دیا اور ظلمت کا کوئی نشان باقی نہیں چھوڑا۔بنی نوع انسان کے لئے نور ہی نور مہیا بھی کر دیا اور اس کا حصول ممکن بھی بنادیا باقی جو امت محمدیہ کی اور بہت سی ایسی راتیں ہیں جو قدر اور فیصلے کی راتیں ہیں یہ تو اظلال ہیں اسی عظیم لیلَةُ الْقَدْرِ کے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہوتی ہے اور جو آپ ہی کا حق تھا۔لَيْلَةُ الْقَدْرِ کے معنے لغت نے بھی یہی کہتے ہیں کہ ایسی رات جس میں امور مخصوصہ کا فیصلہ کیا جائے۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ بنی نوع پر سب سے اندھیری رات میں جن عظیم اور مخصوص امور کا فیصلہ کیا گیا وہ یہ تھا کہ تمام اقوام عالم کو ہر خطہ ارضی پر بسنے والے بنی نوع انسان ایک وحدت میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نور کے رشوں سے باندھ کر اللہ تعالیٰ کے قدموں میں اکٹھا کر دیا جائے گا اور اسی طرح بنی نوع انسان کی عزت اور اس کے شرف کے قیام کا