انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 657
تفسیر حضرت علیله است اثاثے سورة القدر تا کہ تم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض سے مستفیض ہو سکو۔یہ وہ لیلۃ القدر ہے جس کا ذکر احادیث میں آتا ہے کہ رمضان کے آخری عشرہ میں اسے تلاش کرو اللہ تعالیٰ جس پر اپنا فضل کرتا ہے۔اسے دعا کی ایک خاص کیفیت دعا رات کے وقت عطا کرتا ہے بعض دفعہ دن کو بھی جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کا فضل جذب ہوتا ہے اور اس کے لئے تقدیر کی تاریں ہلا دی جاتی ہیں اور اللہ تعالیٰ جو قادر و توانا ہے جو ہر قسم کی طاقت اور قوت کا سر چشمہ ہے وہ ایسے انسان کے لئے یہ فیصلہ کرتا ہے کہ اس کا یہ بندہ اس کے اس طاقت اور قوت کے سرچشمے سے سیراب ہو اور اسے اس بات کی قوت عطا ہو کہ وہ آئندہ نیکیوں میں ترقی کرتا چلا جائے نہ صرف اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ ہی ہوتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ اسے اس بات کی جزا بھی دیتا ہے کہ اس نے محض خدا کی خاطر ہر قسم کی قربانیاں دیں اور عبادتیں بجالائیں۔قدرت کے معنوں میں یہ ہر دو معنی پائے جاتے ہیں یعنی القدر کے معنوں میں قوت اور طاقت دونوں کا مفہوم پایا جاتا ہے لَیلَةُ الْقَدْرِ جو انفرادی حیثیت رکھتی ہے ( گو یہ دوسرے معنوں میں بھی استعمال ہوتی ہے جس کا دوسروں کے ساتھ بھی تعلق ہوتا ہے جسے میں ایک اور رنگ میں بیان کر رہا ہوں) بہر حال انفرادی لیلتہ القدر میں جو قدر کا مفہوم ہے یہ دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور بھی معنی ہیں اس وقت میں ان دو کو لے رہا ہوں ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو اپنی طرف سے نیکی کے کام کرنے کی قوت اور طاقت عطا کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے ایسے شخص کو نور سے فیض حاصل کرنے اور اس نور سے اسے اپنے دل اور اپنے دماغ اور اپنی روح کو منور کرنے کی توفیق عطا کرتا ہے قدر کے معنے میں قوت اور طاقت کا دینا بھی شامل ہے اور ایک قدر کے معنی بھی دیئے کہ اللہ تعالیٰ اپنی طاقت سے وہ چیز پیدا کر دیتا ہے جو مناسب حال ہو جس وقت بندہ اعمال صالحہ بجالا تا یعنی اسے ایسے اعمال کی توفیق ملتی ہے جو عنداللہ مقبول ہوتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کے حضور قربانی اور ایثار اور اخلاص کو پیش کرتا ہے اور اپنے اوپر خدا تعالیٰ کے لئے اور اس کی رضا کے حصول کے لئے ایک موت وارد کر لیتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ اپنے ایسے بندے کی اس نیک نیتی اور اخلاص اور فدائیت اور ایثار کے مناسب حال ان کے لئے سامان پیدا کر دیتا ہے۔قدر یعنی قوت کے معنوں کا یہ دوسرا پہلو ہے۔پس ایک تو ایسا شخص جسے رمضان کے آخری عشرہ میں لیلتہ القدر مل جائے اور وہ اللہ تعالیٰ سے یہ