انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 656 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 656

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث سورة القدر ہوا نور تو موجود تھا لیکن ابو جہل ایسی آنکھ سے محروم رہا جو روحانی طور پر دیکھ سکتی ہے اس لئے وہ محمدی آنور کی تابانی کے باوجود اس سے فائدہ اٹھانے سے محروم رہا۔پس معلوم ہوا کہ باوجود اس کے جس انتہائی فساد اور گناہ اور اللہ تعالیٰ سے دوری کے زمانہ میں جو محمدی صلی اللہ علیہ وسلم نور اپنے کمال کے ساتھ نازل ہوا، وہ تو نازل ہوا مگر اس کے باوجود وہی انسان اس سے فائدہ اُٹھا سکتا ہے جس کے حق میں بھی (علاوہ دوسری تقدیر کے جس کا یہاں ذکر ہے ) کہ آسمان سے ایک نور نازل ہوتا ہے جس کے بعد اور تقدیر اس فرد واحد کے حق میں آسمانوں سے جاری کی جائے اور اس شخص کو روحانی آنکھیں عطا کی جائیں تا کہ وہ اس آسمانی نور سے فائدہ اٹھا سکے جب تک یہ تقدیر نازل نہیں ہوتی کوئی فرد واحد لیلتہ القدر سے فائدہ نہیں اٹھا سکے گا۔اللہ تعالیٰ کے ان انوار سے اور ان برکات سے اور ان رحمتوں سے جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کی طرف لے کر آئے ان سے وہ فائدہ نہیں اٹھا سکے گا ان سے وہ محروم رہے گا یہ محرومی صرف اس وقت دور ہوسکتی ہے جب اللہ تعالیٰ اپنا فضل کرتے ہوئے اپنے قادرا نہ تصرف سے اپنے بندے کے حق میں ایک نور نازل فرمائے یعنی اسے روحانی طور پر آنکھیں عطا ہوں کیونکہ جس نور میں انسان نے اپنی آنکھوں سے کام لینا ہے وہ تو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نور ہے چنانچہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر تم ان روحانی انوار اور برکات اور فیوض اور رحمتوں سے حصہ لینا چاہتے ہو جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے آسمان سے نازل کیا ہے تو تمہارے لئے یہ بات بڑی ہی ضروری ہے کہ تم اپنی تدبیر سے ان عبادات کو جو تمہارے لئے مقرر کی گئی ہیں انہیں ان کے انتہائی کمال تک پہنچاؤ۔میں نے بتایا تھا کہ رمضان کا مہینہ صرف روزہ رکھنے کا مہینہ نہیں ہے بلکہ پانچ بنیادی عبادات اس ماہ میں جمع کر دی گئی ہیں اور یہ پانچوں قسم کی عبادات تمام حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی قائم مقام ہوتی ہیں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر تم خلوص نیت کے ساتھ اور اگر تم آفات نفس کو سمجھتے ہوئے اور اپنے نفس کو مغلوب کر کے اور خدا تعالیٰ کی راہ میں اس کو قربان کر کے ان عبادات کو بجالاتے ہوئے رمضان کے آخر میں پہنچ جاؤ گے یعنی اپنی تدبیر کو کمال تک پہنچا دو گے تو پھر تمہاری اس تدبیر کے نتیجہ اور دعا کے کمال کے وقت تم یہ امید رکھو کہ خدا تعالیٰ آسمان سے اپنی قدرت کی تاروں کو ہلائے گا اور تمہیں روحانی بصیرت اور بصارت عطا کرے گا