انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 645
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۶۴۵ سورة القدر بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة القدر آیت ا تا ۶ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ ) D اِنَّا اَنْزَلْنَهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَ مَا أَدْرِيكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِةُ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍ فَ تَنَزَّلُ الْمَلبِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ امْرِفُ سَلَمُ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ ج ليْلَةُ الْقَدْرِ کے معنی بہت سے کئے جاسکتے ہیں اور بہت سے کئے گئے ہیں خلاصہ ان سب معانی کا یہ بنتا ہے کہ لَیلَةُ الْقَدْرِ وہ اندھیری رات یا وہ اندھیرا زمانہ ہے۔جس میں اللہ کی طرف سے اندھیروں کے دور کرنے اور روشنی کے ظہور کا فیصلہ کیا جاتا ہے اور لَيْلَةُ الْقَدْرِ انفرادی بھی ہوتی ہے اور اجتماعی بھی ہوتی ہے۔احادیث میں جہاں یہ ذکر ہے کہ سارے سال میں کسی وقت لَيْلَةُ الْقَدْرِ ہو سکتی ہے۔وہ ذکر انفرادی لَيْلَةُ الْقَدْرِ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اجتماعی لَيْلَةُ الْقَدْرِ ایک تو (جیسا کہ احادیث اس طرف اشارہ کر رہی ہیں ) رمضان کی آخری دس راتوں میں سے ایک رات ہوتی ہے یا اجتماعی لَيْلَةُ الْقَدْرِ انبیاء کا وہ اندھیرا زمانہ ہوتا ہے جن میں وہ نازل ہوتے اور جس کے اندھیروں کو ان کی برکت سے اللہ تعالیٰ دور کرتا ہے۔انفرادی لَيْلَةُ الْقَدْرِ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہر فرد بشر پر بہت سی پابندیاں عائد کی ہیں بہت سے احکام ہیں جو اسے دیئے گئے ہیں بہت سے اوامر ہیں جو اسے کرنے ہوتے ہیں اور جنہیں اسے کرنا چاہیے یا بہت سی نواہی ہیں جن سے اسے بچنا چاہیے۔انسان جس طرح جسمانی لحاظ سے نشوونما حاصل کرتا ہے پہلے ارتقا کے کئی