انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 638 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 638

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶۳۸ سورة التين منصوبوں کی مضرات سے بچنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ انسان ایمان پر پختگی سے قائم ہو اور عمل صالح کے نتیجہ میں حالات کے لحاظ سے اسے جو قربانیاں دینی چاہئیں وہ دے کر دعاؤں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کرے۔غرض حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلبہ کے خلاف ایک زبانی اور ناکام ہونے والے دعویٰ کا اعلان تو کیا جا سکتا ہے لیکن اس قسم کی کوئی تدبیر کامیاب نہیں ہو سکتی۔یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دعویٰ ہے اور خدا تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اسلام سارے ادیان پر غالب ہوگا۔الدین یعنی اس کا غلبہ اور استیلاء حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ مقدر ہو چکا ہے۔یہ تو ہوکر رہے گا لیکن اس غلبہ کو عملی طور پر دنیا میں قائم کرنے کے لئے جماعت مومنین کو ہزار ہا قسم کی قربانیاں دینی پڑتی ہیں اور تکالیف برداشت کرنی پڑتی ہیں اور ظلم سہنے پڑتے ہیں اور دکھ جھیلنے پڑتے ہیں تب اللہ تعالیٰ کی رحمت کے وہ وارث بنتے ہیں۔پھر خدا تعالیٰ ان کی ڈھال بن کر دنیا سے یہ کہتا ہے کہ جو کرنا ہے کر لو۔جس تدبیر پر عمل کرنا چاہتے ہو کر لو جو منصوبہ بنانا چاہتے ہو بناؤ اور اس پر عمل کر کے دیکھ لولیکن جس طرح پہلے اور نسبتاً چھوٹے انقلابات کو تمہاری تدابیر نا کام نہیں کر سکیں اسی طرح اس سے زیادہ بڑھ کر یہ امکان ہے کہ اس انقلاب عظیم کو تمہاری کوئی تدبیر خواہ وہ بین الاقوامی تدبیر ہی کیوں نہ ہونا کام نہیں کر سکے گی۔پس جہاں ہمارے کانوں میں غیر ممالک سے یہ اطلاعات پہنچتی ہیں کہ دنیا کے بہت سے ملک یا دنیا کی بہت سی جماعتیں یا دنیا کے بہت سے مفادات اکٹھے ہو کر جماعت کے خلاف منصوبہ بنارہے ہیں اور یہ تیاری کر رہے ہیں کہ جماعت اپنی اس مہم میں نا کام ہو جائے وہاں خدا کرے کہ ہمارے کانوں میں ساری دنیا کے احمدیوں کی طرف سے یہ آواز بھی پہنچے کہ خدا تعالیٰ کے دین کی حفاظت اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے موعود التائین اور غلبہ کو قریب لانے کے لئے جن قربانیوں کی بھی ضرورت پڑے گی وہ ہم دیتے چلے جائیں گے تاکہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضلوں کا زیادہ سے زیادہ وارث بنائے۔خدا کرے کہ یہ حقیقت ہماری زندگیوں میں ہماری آنکھوں کے سامنے بھی اور ان ظلمات کے بادشاہوں کی آنکھوں کے سامنے بھی آ جائے کہ فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّينِ آخری غلبہ حمد صلی اللہ علیہ وسلم