انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 54
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۵۴ سورة الاحزاب سامان اس کے لئے اسی صورت میں پیدا ہو سکتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع کرنے والا ہو۔یہاں پر جو اللہ کے متعدد معانی کئے جاسکتے ہیں اپنی تفاصیل کے لحاظ سے ان متعدد معانی میں سے آج کے لئے میں نے پانچ معنوں کا انتخاب کیا ہے اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب اور نقص سے منزہ ہے کوئی عیب ہم اس کا مل ہستی کے متعلق اپنے تصور میں بھی نہیں لا سکتے وہ پاک ہے اور پاکیزگی سے محبت رکھتا ہے اور پاک ہی کو قرب عطا کرتا ہے۔پس جس شخص نے خدا تعالیٰ کی رحمت کو حاصل کرنا ہو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ بھی ایسے رنگ میں پاک ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ جس سے کوئی چیز چھپی نہیں رہ سکتی اسے ہر زاویہ سے پاک یا پاک ہونے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھے یہ پاکیزگی اگر ہم نے حاصل کرنی ہو تو اس کے لئے ہمارے واسطے ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی پیروی کرنے والوں میں سے بن جائیں کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔اس کی سچی پیروی انسان کو یوں پاک کرتی ہے کہ جیسا ایک صاف اور شفاف دریا کا پانی میلے کپڑے کو“۔چشمه معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۰۳) جس طرح پانی اگر صاف اور پاکیزہ ہو اور کپڑے کو پتھروں پر مار مار کر دھویا جائے اور اسے صاف کرنے پر پوری توجہ دی جائے تو برف کی طرح وہ کپڑا صاف ہو جاتا ہے اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہوئے آپ نے جو اُسوہ دنیا میں قائم کیا ہے اس کی پیروی کرتے ہوئے آپ کی بتائی ہوئی راہوں کو اختیار کرتے ہوئے ہم اپنے نفس کو اپنی روح کو اس رنگ میں پاک کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی نگاہ اس پر پڑے تو جو اللہ کے ایک معنی یہ ہوئے کہ جو شخص اس پاک ذات سے تعلق پیدا کرنا چاہتا ہے اسے یہ یادرکھنا چاہیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور پیروی ضروری ہے جو شخص آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی نہیں کرتا یا کم از کم کامل اتباع کرنے کی کوشش نہیں کرتا اس کے اندر بہت سی ایسی ناپاکیاں رہ جائیں گی جو اللہ تعالیٰ کو بیزار کرنے والی ہوں گی اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے اسے محروم کر دینے والی ہوں گی اس لئے اگر اس پاک کی محبت چاہتے ہو تو اس پاک نمونہ کی کامل اور مکمل اتباع کرو اس کے بغیر خدا تعالیٰ تم سے رحمت کا سلوک نہیں