انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 627 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 627

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطِنِ الرَّحِيمِ ۶۲۷ سورة الم نشرح بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسیر سورۃ الم نشرح آیت ۸ فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبُ۔پس اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی اس آیہ کریمہ میں فرمایا ہے کہ ایک دور کے کام سے فارغ بھی ہو گے اور ایک دوسرے دور میں داخل بھی ہو رہے ہو گے۔اگر تم میری محبت کی انتہا کو (اپنے دائرہ استعداد میں ) پہنچنا چاہتے ہو تو پھر اس اصول کو یا درکھو کہ جب فرغت کا سوال ہو۔یعنی ایک دور پورا ہو رہا ہو تو بنیادی طور پر تمہیں ایک سبق تو یہ دیا جاتا ہے کہ وہ کام فرغت کے معیار پر پورا اترتا ہو۔فرغ کے معنے عربی زبان میں کسی کام کو یا کسی چیز کو اس کے کمال تک پہنچانے کے ہوتے ہیں چنانچہ منجد نے لکھا ہے کہ فرغ من الشّيء کے معنے ہوتے ہیں آگے یعنی کسی کام یا چیز کو کامل اور مکمل بنا دیا۔اس کے سارے اجزاء پورے ہو گئے تب وہ عربی زبان کے لحاظ سے فرغت ہے مثلاً دسویں کا وہ طالب علم جو دو پرچوں میں فیل ہو جاتا ہے اس کو فرخت نہیں کہا جائے گا یعنی اس کا کام مکمل نہیں ہوا کیونکہ جہاں تک دسویں کے امتحان کی تیاری کا سوال تھا اس نے اپنی ذمہ داری کو کمال تک نہیں پہنچایا اس لئے اس کے اگلے دور کی ترقی یا اس کے لئے جدوجہد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔غرض اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ فَإِذَا فَرغت یعنی جب تم ایک دور کے کام سے اور اس کی ذمہ داری سے پورے طور پر فارغ ہو جاؤ اس معنے میں کہ جس ذمہ داری کو جس حد تک نباہنا ممکن تھا وہ تم نباہ لو، اس میں کوئی پہلو کمزوری کا یا کوئی پہلو خامی کا باقی نہ رہ جائے تم اسے مکمل اور پورا کر دو اور اس کے سارے اجزاء نمایاں طور پر نشوونما پا چکیں تو پھر وہاں ٹھہرنا نہیں کیونکہ زندگی کی کوششوں میں ٹھہراؤ تو