انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 604
۶۰۴ سورة الطارق تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث خواص پیدا ہو جاتے ہیں۔مثلاً خشخاش کا دانہ ہے آج سے سو سال پہلے انسان نے اس کے جو خواص معلوم کئے تھے آج ہم نے ان سے کہیں زیادہ معلوم اور دریافت کر لئے ہیں۔پس ضروری نہیں کہ یہ نئے دریافت شدہ خواص سو سال پہلے بھی اس میں موجود ہوں۔ہوسکتا ہے اس سو سال کے عرصہ میں اللہ تعالیٰ کی صفات کے نئے جلوؤں کی وجہ سے مزید خواص رونما ہوئے ہوں۔پس صفات باری تعالیٰ کے یہ جلوے اور زمین کی قبولیت کے یہ آثار ابتدائے آفرینش سے اب تک جاری ہیں۔زمین صفات باری تعالیٰ کے جلوؤں کی آماجگاہ بنی ہوئی ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کی صفات کے ان مخصوص جلوؤں کا سلسلہ ایک لحظہ کے لئے بھی منقطع ہو جائے تو یہ سارا کارخانہ عالم درہم برہم ہو جائے۔اگر انسان ایک لحظہ کے لئے اس دائرہ صفات باری اور دائرہ قبول اثر یعنی زمین میں جو آسمان سے اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلوؤں کو اپنے اندر قبول و جذب کر کے ان کو زندگی اور بقاء اور تازگی اور نئے خواص کا جامہ پہنانے کی اہلیت ہے وہ نہ ہو تو اگر انسان ایک لحظہ کے لئے بھی اس دائرہ سے باہر قدم رکھے تو ہلاکت کے گڑھے میں جا گرے جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ قرآن کریم نے جس مخلوق کو زمین کہا ہے اس سے با ہر انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔( خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۸۴۱،۸۴۰) آیت ۱۶ تا ۱۸ إِنَّهُمْ يَكِيدُونَ كَيدال و اكيد كيدان فَيَهْلِ الكَفِرِينَ أَمْهِلُهُمْ رُوَيْدان پس اس آیہ کریمہ میں پہلے مسلمانوں کو یہ کہا الیس اللهُ بِكَافٍ عبده اور پھر ان کے منہ سے غیروں میں اس کی تبلیغ کروائی۔دوسری طرف کافروں سے کہا کہ اللہ عزیز بھی ہے اور انتقام کی بھی طاقت رکھنے والا ہے وہ جو چاہتا ہے وہ کرے گا اسے کوئی روک نہیں سکتا۔کا فر جو چاہتے ہیں اور جوان کے منصوبے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو ملیا میٹ کر دے گا اور خاک میں ملا دے گا۔البتہ منصوبے بنانے کی ان کو اجازت ہو گی۔چنانچہ قریش مکہ نے بھی مسلمانوں کے خلاف منصوبے کئے۔عرب کے دوسرے قبائل جن کی لاکھوں کی تعداد ھی انہوں نے بھی بعض چھوٹے چھوٹے قبائل کو اپنے ساتھ ملا کر مسلمانوں کے خلاف منصوبے باندھے۔پھر یہود کی سازش ساتھ مل گئی۔یوں سمجھنا چاہئے کہ اس وقت کی دنیا کا Spear head (سپئیر ہیڈ ) یعنی نیزہ کی آئی جو تھی وہ اسلام کے خلاف نظر آتی تھی پھر پیچھے