انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 603 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 603

تفسیر حضرت خلیفۃالمسیح الثالث اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۶۰۳ سورة الطارق بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الطارق آیت ۱۲ ۱۳ وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الرَّجُعِل وَالْأَرْضِ ذَاتِ الصَّدع۔اللہ تعالیٰ نے انسان کی نسبت سے یعنی انفرادی طور پر جس جس قسم کے توازن کی ضرورت تھی اس اس شکل میں اُسے پیدا کیا۔پھر ایک نوعی توازن قائم کیا جو مثلاً اجناس کے اندر کارفرما ہے۔اسی طرح تمام پھلوں اور کھانے پینے کی اشیاء میں توازن قائم ہے اور یہ زمین ہے جس میں یہ موزونیت یہ میزان کا عمل دخل نظر آتا ہے۔قرآن کریم اسے کہے گا کہ انسان کے قومی اور اس کی قابلیتوں کی صحیح اور بہترین نشوونما کے لئے جس غذا کی جس شکل میں جس موزوں حالت میں اور جس متوازن صورت میں ضرورت تھی یہ اس زمین میں پائی جاتی ہے۔غرض جس مجموعہ آثار الصفات میں موزوں غذا پائی جاتی ہے وہ زمین ٹھہری۔پھر فرمایا: وَ السَّمَاءِ ذَاتِ الرَّجُعِ وَالْأَرْضِ ذَاتِ الصَّدْع یعنی زمین وہ ہے جو صدع ہونے کے اثر کو قبول کرنے کی اہلیت رکھتی ہے یعنی زمین وہ ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ اپنے غیر محدود جلوؤں کے ساتھ ہمیشہ متوجہ رہتا ہے۔جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ زمین آثار صفات باری تعالیٰ کے مخصوص مجموعے کا نام ہے اس لئے زمین کی طرف اللہ تعالیٰ اپنے غیر محدود جلوؤں کے ساتھ متوجہ رہتا ہے کیونکہ یہ ان غیر محدود مؤثرات کا اثر قبول کرنے کی ہمیشہ اپنے اندر اہلیت پاتی ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کے بے شمار جلوؤں کا ظہور ہو رہا ہے اور زمین ان کو قبول کر رہی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلوے جو ہر وقت ظہور پذیر ہورہے ہیں ان کے نتیجہ میں مخلوق میں نئے