انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 601
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۶۰۱ سورة البروج جانتا تھا کہ اس کا اس عزیز خدا کے ساتھ مقابلہ ہے اور اس حمید خدا کے ساتھ مقابلہ ہے جس سے انہوں نے وہ طاقتیں اور قوتیں حاصل کی ہیں جو تعریف کے قابل ہیں اور تین لاکھ کیا تین کروڑ کی بھی اگر اس جگہ آجاتی فوج اور خدا تعالیٰ جو مالک اور متصرف بالا رادہ ہے کا منشا یہ ہوتا کہ مسلمان جیتیں گے ہاریں گے نہیں تو تین کروڑ بھی وہاں شکست کھاتا اور وہ مسلمان کو شکست نہ دے سکتا کیونکہ خدا تعالیٰ کا حکم تھا ہر دو جہان کو کہ اسلام اس میدانِ جنگ میں جیتے گا ، ہارنے کیلئے نہیں اسلام کو قائم کیا گیا۔یہ ہے متصرف بالا رادہ۔تو یہ جب متصرف بالا رادہ رب کی صفت کے جلوے مخالف دیکھتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی معرفت نہیں رکھتا یا منکر باری ہے یا صحیح حقیقی توحید پر قائم نہیں، تو اس کے دل میں حسد پیدا ہوتا ہے۔جلن پیدا ہوتی ہے۔مُؤتُوا بِغَيْظِكُمْ اَور بھی پیدا ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں منصوبے اور بھی تیز ہوتے ہیں اور اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور بھی زیادہ شدت کے ساتھ نازل ہوتی ہیں اور خدا تعالیٰ کے فرشتے اور بھی زیادہ آتے ہیں اور اسلام کی اور مومنین کی اس جماعت کی حفاظت کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔تو یہاں یہ فرمایا گیا کہ جو خدا العزیز ہے طاقتور، عزت والا ، غالب جس کا غلبہ اور جس کی طاقت ہر شے ہر قوت کی دسترس سے بالا اور کوئی طاقت اتنی نہیں جو اس کو مغلوب کر سکے کوئی منصوبہ ایسا نہیں جو اسے عاجز بنا سکے اور حمید ہے جو اس کے ساتھ تعلق رکھنے والے ہیں ان کے اندر بھی وہ حسن اور وہ احسان کی طاقت پیدا کرتا ہے کہ دنیا ان کی تعریف پر مجبور ہو جاتی ہے۔وہ مالک ہے متصرف بالا رادہ ہے۔قانون کے اوپر نہیں اس نے ہر چیز کو چھوڑا ہوا۔قانون بھی اسی کا چلتا ہے لیکن قانون در قانون اس طرح اس نے بنا دیا ہے کہ انسانی عقل تو ان گہرائیوں تک پہنچ ہی نہیں سکتی۔اور وہ شہید ہے۔اس خدا سے، یہاں چونکہ یہ باتیں تھیں جو دشمن کے دل میں آگ بھڑ کانے والی حسد پیدا کرنے والی جب تک معرفت حاصل نہ ہوا اور توبہ کا دروازہ نہ کھلے دشمنی میں ان کو بڑھانے والی ہیں ان صفات کا یہاں ذکر کر دیا کہ مومن باللہ ہیں کہ چونکہ وہ ایک ایسی ہستی پر ایمان لائے کہ جو اللہ ہے تمام صفاتِ حسنہ سے متصف ہر عیب سے پاک اور ان صفات میں صفت عزیز ہے اس کی ایک صفت۔پھر الحمید ہے وہ ، پھر المالک ہے وہ ، پھر وہ شہید ہے اور یہ صفتیں جو یہاں بیان ہوئی ہیں یہ دشمنی کا باعث بنتی ہیں اس لئے یہاں ذکر کیا گیا ہے اور یہاں یہ نتیجہ نکلتا ہے ان آیتوں پر غور کر کے