انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 600 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 600

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶۰۰ سورة البروج مطابق اگر ہو تو حقیقت ہے ورنہ نہیں یہ سب کچھ خدا تعالیٰ نے بنایا۔تو وہ ہر چیز کا خالق اور مالک ہے اور وہ تصرف کرنے پر قادر بھی ہے تصرف کرتا بھی ہے۔تصرف صرف قانونا نہیں کرتا بلکہ تصرف بالا رادہ کرنے والا ہے۔تصرف بالا رادہ کے منبع سے معجزات پھوٹتے ہیں۔اس کا اپنا قانون ہے۔وہ بھی اس کے قانون کے خلاف نہیں لیکن خدا تعالیٰ کے جو قوانین ہیں ان پر انسانی عقل حاوی نہیں ہو سکتی ، محیط نہیں ہوسکتی۔اور شہید کے معنی ہیں الَّذِي لَا يُغِيْبُ شَيءٍ عَنْ عِلْمِہ۔جس کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں جس کے علم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہر شے پر جس کا علم احاطہ کئے ہوئے ہے۔تو یہ جو صفات یہاں بیان ہوئیں عزیز حمید اور لَهُ مُلْكُ میں مالک ہونے کی اور شہید۔یہ چارصفات کے جلوے جب جماعت مومنین کی زندگی میں ظاہر ہوتے ہیں تو اس وقت جو مخالف اور منکر ہیں ان کے دل میں حسد پیدا ہوتا ہے۔وہ عزت مٹانا چاہتے ہیں، خدا تعالیٰ عزت دے دیتا ہے۔وہ کمزور کرنا چاہتے ہیں القوی خدا تعالی طاقت دے دیتا ہے۔اب جتنا زور روؤسائے مکہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے چند گنتی کے ساتھیوں کے خلاف لگایا کہ مٹ جائیں۔نہیں مٹا سکے۔اس واسطے کہ ان کا تعلق زندہ تعلق، معرفت اور عرفان کا تعلق اس خدا سے تھا جو غالب ہے پھر جس وقت عرب اپنے معاشرہ اور معیشت اور اقتصادی لحاظ سے ایک کمزور ملک تھا۔دنیا میں طاقتور ممالک دو تھے بڑے، کسری ایک طرف، قیصر ایک طرف، جب کسری نے ساری توجہ مسلم عرب کی ، مسلمان عرب جو تھا اس کی توجہ اپنی طرف کھینچی ہوئی تھی حملہ کر کے اور اس وقت قیصر نے سمجھا کہ یہ موقع ہے مٹادو اور فیصلہ کیا کہ مٹادے۔طاقت تھی دنیوی وہ اکٹھی کی۔کہتے ہیں چالیس ہزار کے مقابلہ میں تین لاکھ کی فوج لے کے آیا اور ان کو حکم یہ تھا کہ یہ لڑائی عام لڑائیوں کی طرح نہیں جس طرح پہلے لڑی گئی ہیں اسی طرح یہ لڑائی لڑی جارہی ہے کہ میدانِ جنگ میں اتنی بڑی طاقت میں بھیج رہا ہوں۔تین لاکھ، چالیس ہزار کے مقابلے میں۔ہر دس ہزار کے مقابلے میں پچھتر ہزار سپاہی زیادہ اچھے ہتھیاروں سے ہتھیار بند ہیں کہ تم ان کو وہاں قتل کرو اور پھر مدینے میں جا کے سارے مسلمانوں کو مارو۔وہ جنگ یرموک کہلاتی ہے وہ جنگ یرموک نہیں تھی وہ اسلام کی جنگ تھی یعنی اس معنی میں کہ قیصر نے فیصلہ کیا تھا کہ اس جنگ کے ساتھ اسلام کو صغیر ہستی سے مٹادے گالیکن وہ یہ نہیں