انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 599
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۵۹۹ سورة البروج درختوں کی یہ قسمیں یہ موسم بہار میں اپنے پتوں کو گرا دیں گی اور نئے پتے اگیں گے ان میں لیکن وہ متصرف بالا رادہ ہے اس قانون کے ہوتے ہوئے بھی۔ہر پتہ جو گرتا ہے وہ اس کے حکم سے گرتا ہے، ایک دفعہ دیر کی بات ہے میں کالج کی لاج میں رہا کرتا تھا تو ایک ایسا ہی درخت ہمارے گھر کے صحن میں بھی لگا ہوا ہے۔ایک دن اس طرف میرا خیال گیا۔پت جھڑ کا موسم تھا میں نے کہا دیکھیں خدا تعالیٰ کا تصرف بالا رادہ جو ہے وہ کس رنگ میں ظاہر ہوتا ہے۔تو شام کے وقت، پت جھڑ ہو رہی تھی نا ایک وقت میں تو سارے پتے نہیں جھڑ جاتے ، کچھ پتے زرد کچھ زیادہ زرد کچھ کی پتے کے ساتھ ایک چھوٹی سی ڈنڈی ہوتی ہے جو ٹہنی کے ساتھ لگی ہوئی ہوتی ہے وہ بھی جب تک زرد نہ ہو وہ جھڑتے نہیں اور کچھ سبز بالکل۔تو میں تین چارپتے شام کو دیکھتا تھا زرد، نیم زرد اور بالکل سبز اور صبح جا کے دیکھتا تھا اس درخت کے نیچے تو سبز پتہ نیچے گرا ہوا ہوتا تھا اور زرد پتا درخت کے اوپر لگا ہوا ہوتا تھا۔اگر صرف قانون کی حکومت ہوتی خدا تعالیٰ کی تو جوں جوں زردی اور موت کی کیفیت پتے پر زیادہ ہوتی چلی جاتی اس کے گرنے کا امکان زیادہ ہوتا لیکن ایک بظاہر نسبتا زیادہ زندگی رکھنے والے پتے کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ درخت سے نیچے گر جا اور جو زرد پتا تھا جس کا زیادہ امکان تھا شام کے وقت کہ وہ گر جائے گا صبح کو وہ درخت پر لگا ہوا تھا اسی طرح، یہ درخت بھی ہمارے معلم ہیں،اسی واسطے ان کو اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو آیات کے زمرہ میں رکھا ہے۔یہ بھی پوائنٹر (Pointer) ہیں۔یہ علامتیں ہیں جو ہمیں خدا تعالیٰ کی طرف لے جانے والی ہیں۔جو خدا تعالیٰ کی تعلیم اور قرآن کریم میں جو صفات اس کی بیان ہوئی ہیں ان کی حقیقتوں کو واضح کرنے والی ہیں۔تو میں مالک کے متعلق خدا تعالیٰ کی جو مالک ہونے کی صفت ہے اس کے معنے بتا رہا ہوں کہ اس کی ملکیت ہے ہر چیز۔ہر چیز کا وہ خالق ہے۔کوئی چیز ایسی نہیں جو اس نے پیدا نہیں کی اور ہر چیز کا وہ مالک ہے کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو کسی بت نے بنائی ہو یا امریکہ نے بنائی ہو یا کسی اور ملک نے۔ہر چیز اُس نے بنائی۔انسان نے جو بنایا اس کی بنائی ہوئی چیزوں میں اس کے بنائے ہوئے قانون کے مطابق تصرف کر کے، اس کی بنائی ہوئی قوت اور استعداد اور صلاحیت کے نتیجہ میں تصرف کر کے، انہوں نے ایک نئی شکل اس کو دے دی لیکن گھر سے تو کچھ نہ لائے سب کچھ خدا تعالیٰ کی عطا تھی۔اس کی قوتیں اور استعدادیں بھی اور وہ جو مادہ تھا جس کو اس نے استعمال کیا یا جو تھیوری تھی جو اس کے ذہن میں آئی وہ اور جو قانونِ قدرت جس کے عین