انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 598 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 598

تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث ۵۹۸ سورة البروج پیدا کرنے میں لگا ہوا ہے۔لوگ اس کی تعریف کریں گے۔تعریف دو طرح کی جاتی ہے یا حسن کے نتیجہ میں یا احسان کے نتیجہ میں حقیقی حسن خدا تعالیٰ کا ہے اللہ نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ ( النور : ٣٦) اور احسان تو کسی اور کا تصور میں بھی نہیں آسکتا۔اس نے پیدا کیا، اس نے طاقتیں دیں۔اس نے ہر دو جہان کی ہر چیز کو خادم بنادیا انسان کا۔اس سے بڑا اور کیا احسان ہوسکتا ہے کہ اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسا نبی ہمارے لئے بطور راہبر اور ہادی کے مبعوث کر دیا تو جو اس کے کہنے پر اور اس کے حکم کے مطابق اپنے اندر اپنے وجود میں اپنے افعال میں نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ کی جھلک رکھتا ہوگا ، وہ حسن اس میں پیدا ہو گیا۔جو شخص خدا تعالیٰ کے احکام کے مطابق دنیا کے محسن اعظم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دنیا پر احسان کرنے والا ہوگا اس سے بڑا کون احسان کرنے والا ہے سب لوگ اس کی تعریف کرنے لگ جائیں گے۔دشمن بھی تعریف کرتے ہیں ایسوں کی اور اپنے بھی کرتے ہیں۔الَّذِى لَهُ مُلْكُ السّيوتِ وَالْأَرْضِ - اَلْمُلْكُ کے معنے ہیں الْعَظَمَةُ وَ السّلْطَةُ عظمت اور رعب، اور الملک کے معنی ہیں صَاحِبُ الْأَمْرِ وَالسَّلْطَةِ نيز قَادِرُ عَلَى التَّصَرُّف، تصرف کرنے پر قادر تو الَّذِى لَهُ مُلكُ السّبوتِ وَالْأَرْضِ کے یہ معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ذات ہے کہ ہر دو جہاں کی ہر شے میں اپنی مرضی کے مطابق تصرف کر سکتا ہے اور تصرف جو ہے وہ دو قسم کا ہوتا ہے۔ایک قانون کا تصرف، جو دنیا کی بادشاہتیں کرتی ہیں، قانون بنا دیتی ہیں اور پھر ان کے کارندے جو ہیں وہ اس کے مطابق شہری زندگی چلاتے ہیں۔غلطی کرتے ہیں کبھی ٹھو کر کھاتے ہیں کبھی قانون کے مطابق کام کر رہے ہوتے ہیں۔انسان ہے، قانون بھی کمزور اس کا اور اس کا اجرا کرنے والے بھی ہزا ر ضعف رکھتے ہیں اپنے اندر لیکن خدا تعالیٰ قادِرُ عَلَى التَّصَرُّف قانون کے لحاظ سے بھی ہے یعنی اس نے کائنات کی ہر چیز کو دوسری چیز کے ساتھ ایک عظیم قانون سے وابستہ کیا ہوا ہے۔اسی واسطے ہمارے ڈاکٹر عبدالسلام صاحب نے نوبل پرائز لے لیانا۔ایک نیا قانونِ باری ایک نئی جھلک اس صفت کی ان کی تحقیق نے معلوم کی لیکن خدا تعالیٰ صرف قانون کے ساتھ تصرف نہیں کرتا۔بلکہ وہ متصرف بالا رادہ ہے اس نے صرف یہ قانون نہیں بنایا کہ بعض درخت موسم بہار میں پت جھڑ کرتے ہیں۔موسم بہار میں جان کے کہ رہا ہوں خزاں کی بجائے۔بعض درخت ایسے ہیں جو موسم بہار میں پت جھڑ کرتے ہیں اس نے یہ قانون بنایا ہے، قانونی تصرف بھی ہے اس کا ، کہ یہ درخت جو ہیں