انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 597
۵۹۷ سورة البروج تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث صفت عزیز کے کئی معنی ہیں۔ایک تو اس کے معنی ہیں بڑی طاقت والا بڑے غلبہ والا اور ایسا غالب که الْمَنِيعُ الَّذِي لَا يُنَالُ وَلَا يُغَالَبُ وَلَا يُعْجِزُهُ شَئی کہ جو انسانی منصوبوں اور انسانی دشمنیوں اور انسانی کرتوتوں کی دسترس سے بالا ہے (لا ينال) اور دنیا کی ساری طاقتیں مل کر اس پر غلبہ حاصل نہیں کرسکتیں (وَ لَا يُغَالَبُ وَلَا يُعْجِزُهُ شَيْئ) اور جو وہ کرنا چاہتا ہے کر دیتا ہے۔دنیا کی کوئی طاقت دنیا کا کوئی منصوبہ اسے اس کے منصوبوں میں نا کام نہیں کرسکتا عاجز نہیں بنا سکتا۔پھر عزیز کے معنے ہیں المکرم وہ صاحب عزت ہے اور عزت کا سرچشمہ ہے۔مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْعِزَّةَ فَلِلَّهِ الْعِزَّةُ جَمِیعًا (فاطر (1) کہا گیا ہے۔وہ عزیز ہے۔جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس جہان اور اگلے جہان میں صاحب عزت و اکرام ہو اسے چاہیے کہ وہ اپنے پیدا کرنے والے رب سے تعلق قائم کرے اور حقیقی عزت اس سے حاصل کرے نہ کہ دنیا کے دوسرے عزت کے جھوٹے سرچشموں سے حقیقی عزت کے وہ سر چشمے نہیں ہیں۔اصل عزت دینے والا خدا تعالیٰ کی ہستی اور ذات ہے اور اپنی اس صفت کے جلووں میں کہ وہ طاقت کا سرچشمہ ہے، وہ عزت کا سرچشمہ ہے، وہ ہر پہنچ سے دور ہے، کوئی اس پر غالب نہیں آ سکتا، کوئی اسے عاجز نہیں کر سکتا اس کی صفات کے جلوے ان کو نظر آتے ہیں اس دنیا میں خصوصاً (جہاں تک انسان کا تعلق ہے ( ان لوگوں کی زندگیوں میں جو حقیقی طور پر موحد ہیں اور خدا تعالیٰ سے ایک زندہ تعلق رکھنے والے ہیں۔یہ سارے جلوے جو ہیں یہ خدا تعالیٰ کی حمد کی طرف انسان کو متوجہ کرتے ہیں وہ حمید ہے،سب تعریفوں کا مرجع بھی وہ ہے اور سب حقیقی تعریفوں کا مستحق بھی وہ ہے اور جو اس سے تعلق رکھنے والے ہیں ان سے بھی پسندیدہ افعال سرزد ہوتے ہیں اللہ عزیز ہے اور سب سے بڑی طاقت انسان کی یہ ہے کہ وہ یہ یقین کرے کہ مجھ میں کوئی طاقت نہیں لیکن جس خدا پر میں ایمان لایا ہوں اس میں ہر طاقت موجود ہے اس واسطے مجھے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ) جو خدا کے ساتھ تعلق رکھنے والا ہے وہ تو خدا تعالیٰ کی ہدایت میں خدا تعالیٰ کے تصرف کے نیچے آ گیا اس سے بھی ایسے افعال سرزد ہوں گے کہ جس طرح سب تعریفوں کا مرجع اور مستحق اللہ ہے خدا تعالیٰ اس کی بھی حمد کرتا ہے آسمانوں سے اور لوگوں کی نگاہ میں بھی ان کو ایسا بنادیتا ہے۔ایک بت کی شکل میں نہیں ایک ایسے فعال وجود کی شکل میں جس کا ہر فعل نوع انسانی کی خدمت میں، ان کے دکھوں کو دور کرنے میں، ان کے لئے سکھ کے سامان